تلنگانہآندھراپردیش

مرکزی یونین بجٹ 2026: تلگو ریاستوں کو کیا ملا کیا نہیں؟ جانیں مکمل لسٹ

مرکزی یونین بجٹ 2026 میں تلگو ریاستوں کے لیے انفراسٹرکچر، سیاحت اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے کئی اہم اعلانات کیے گئے ہیں۔

مرکزی یونین بجٹ 2026 میں تلگو ریاستوں کے لیے انفراسٹرکچر، سیاحت اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے کئی اہم اعلانات کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے لیے ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز، ایکو ٹورزم منصوبے اور ریئر ارتھ منرل کلسٹرز کو شامل کیا گیا ہے، جس سے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کو جزوی راحت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
اولیاء اللہ کے آستانے امن و سلامتی، یکجہتی اور بھائی چارہ کے مراکز،ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے غیر ملکی طلباء کا دورہ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ
جماعت اسلامی ہند کا "احترام انسانیت” مہم کا اختتامی جلسہ حیدرآباد میں
کمشنرحیدرا نے میڈارم جاترا میں درشن کئے
محبت کی سرزمین ہندوستان، ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ کے زیر اہتمام شاندار جشنِ یومِ جمہوریہ

بجٹ 2026 کی سب سے بڑی جھلک نئے ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز ہیں، جن کا براہِ راست فائدہ حیدرآباد کو ہوگا اور علاقائی رابطہ بہتر ہوگا۔ مجوزہ ریل روٹس میں پونے–حیدرآباد، حیدرآباد–بنگلورو اور حیدرآباد–چنئی شامل ہیں۔ ان کوریڈورز سے سفر کا وقت کم ہونے، کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے اور جنوبی آندھرا کے علاقوں کو بالواسطہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

مرکزی بجٹ میں آندھرا پردیش میں ایکو ٹورزم کو خاص اہمیت دی گئی ہے، خاص طور پر اراکو ویلی میں۔ یہاں ایکو ٹریلز اور پہاڑی ٹریکنگ روٹس کی ترقی، اراکو کو نئے ٹریکنگ اور ہائیکنگ مقام کے طور پر فروغ دینا، اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پائیدار سیاحت کو فروغ دینا ہے۔

قدرتی سیاحت کو بڑھانے کے لیے پلکٹ جھیل میں برڈ واچنگ ٹریلز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت برڈ واچنگ ٹورزم کلسٹرز، مقامی گائیڈز اور ہوم اسٹیز کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی سرحدی علاقوں میں مشترکہ طور پر ترقی پائے گا۔

یونین بجٹ 2026 میں بدھ مت اور وراثتی سیاحت کے فروغ کے لیے بھی منصوبہ شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں بدھ مت سرکٹس اور 15 آثارِ قدیمہ کے مقامات کی ترقی کی جائے گی۔ اس سے آندھرا پردیش کے پلکٹ اور اراکو علاقوں کو فائدہ پہنچنے، سیاحوں کی تعداد میں اضافہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں مدد ملنے کی امید ہے۔

پورودیہ (ایسٹ کوسٹ انڈسٹریل کوریڈور) کے تحت مشرقی ساحلی خطے میں ایک مربوط صنعتی کوریڈور کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں آندھرا پردیش کا ساحلی علاقہ سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ہوگا۔ اس منصوبے سے بندرگاہوں، صنعت اور لاجسٹکس کے شعبے کو فروغ ملے گا، جبکہ درگاپور کو ایک اہم نوڈ کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔

اسی طرح ریئر ارتھ کوریڈورز کے ذریعے ایک بڑے صنعتی فروغ کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں اوڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو شامل ہیں۔ ان کوریڈورز میں ریئر ارتھ معدنیات کی کان کنی، پروسیسنگ، تحقیق اور مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جائے گی، جس سے بھارت کے اسٹریٹجک وسائل کے شعبے کو تقویت ملے گی۔

تاہم، تمام توقعات کے برخلاف امراوتی، جو آندھرا پردیش کا مجوزہ دارالحکومت ہے، کے لیے بجٹ میں کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا۔ یہ اس لیے بھی چونکا دینے والا ہے کیونکہ حالیہ اقتصادی سروے میں امراوتی کا ذکر کیا گیا تھا۔ دوسری جانب، تلنگانہ کو بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ حیدرآباد میٹرو کی توسیع کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی اور کئی زیرِ التوا منصوبوں کو بجٹ سپورٹ نہیں ملی۔ ریاستی حکومت ایک طویل عرصے سے انفراسٹرکچر کے لیے فنڈس کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مجموعی طور پر، یونین بجٹ 2026 میں ہائی اسپیڈ ریل، سیاحت اور ریئر ارتھ منصوبوں کے ذریعے تلگو ریاستوں کو کچھ مواقع فراہم کیے گئے ہیں، لیکن امراوتی اور حیدرآباد میٹرو جیسے اہم منصوبوں کے لیے فنڈس نہ ملنے پر عوام اور سیاسی حلقوں میں ناراضگی بھی پائی جاتی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ اعلانات زمینی سطح پر حقیقی ترقی میں تبدیل ہو پاتے ہیں یا نہیں۔