امریکی فوج نے جزیرہ خارک پر ایران کے فوجی ٹھکانوں پر بمباری کی: ٹرمپ
مسٹر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ انہوں نے جزیرہ خارک کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ ایران یا کوئی دوسرا فریق آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے جزیرہ خارک پر واقع فوجی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ یہ جزیرہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے اور ملک کی زیادہ تر خام تیل کی برآمدات یہیں سے سنبھالی جاتی ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ انہوں نے جزیرہ خارک کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ ایران یا کوئی دوسرا فریق آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں۔
ماہرین کے حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جزیرہ خارک پر قبضہ کرنے کی کسی بھی کوشش کے لیے بڑی تعداد میں زمینی فوج کی ضرورت ہوگی، جس کے بارے میں امریکی انتظامیہ اب تک ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔ خلیج فارس میں ایران کے ساحل سے تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع جزیرہ خارک سے ملک کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمد ہوتی ہے۔
پینٹاگون کے پریس سکریٹری کنگسلے ولسن نے بتایا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعاون کر رہے ہیں۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق اب تک تقریباً چھ ہزار اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں اور 60 سے زائد جہازوں اور 30 بارودی سرنگیں بچھانے والے بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے یا انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹوں کے مطابق امریکہ جنگی جہاز یو ایس ایس طرابلس اور تقریباً 2500 میرین فوجیوں کو بھی مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے۔ ان افواج کے ایک سے دو ہفتوں کے اندر خطے میں پہلے سے تعینات امریکی فوجی وسائل کے ساتھ شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ کچھ جنگی جہازوں اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کی تعیناتی بھی کی جا رہی ہے، تاکہ خطے میں پہلے سے موجود امریکی فوجی دستوں کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
اس دوران ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے ایک بیان میں مسٹر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ جزیرے کا دفاعی نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
آئی آر جی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے تقریباً 15 مقامات کو نشانہ بنایا تھا، جن میں ایرانی فوج کے فضائی دفاعی ٹھکانے، جوشن بحری اڈہ، ہوائی اڈے کا واچ ٹاور (پہرے کا مینار) اور ایک ہیلی کاپٹر پیڈ شامل تھے لیکن ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ جزیرے کا دفاعی نظام ایک گھنٹے کے اندر ہی دوبارہ کام کرنے لگا۔
آئی آر جی سی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جزیرہ خارک پر موجود تیل سے متعلق کسی بھی بنیادی ڈھانچے کو ان حملوں میں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ اس بیان میں ایران کی اس سابقہ وارننگ کو بھی دہرایا گیا ہے، جس میں اس نے ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کے حملے کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
آئی آر جی سی نے کہاکہ "اگر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا جاتا ہے، تو اس پورے خطے میں موجود تیل اور گیس سے متعلق تمام بنیادی ڈھانچے خاک میں ملا دیے جائیں گے، جن سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے مفادات وابستہ ہیں۔”