پانی کی قلت سے متعلق واٹر بورڈ کا اہم فیصلہ
حیدرآباد میں آئندہ موسم گرما کے دوران پانی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے اور واٹر ٹینکروں کی بکنگ میں ہونے والی تاخیر کو کم کرنے کے لیے حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے اہم فیصلہ کیا ہے۔
حیدرآباد میں آئندہ موسم گرما کے دوران پانی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے اور واٹر ٹینکروں کی بکنگ میں ہونے والی تاخیر کو کم کرنے کے لیے حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے اہم فیصلہ کیا ہے۔
بورڈ اپنے موجودہ تقریباً 1200 واٹر ٹینکروں کے بیڑے میں مزید 500 ٹینکر شامل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، تاکہ 2027 کے موسم گرما میں شہریوں کو پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس سلسلے میں واٹر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اشوک ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ اضافی ٹینکروں کی رجسٹریشن کا عمل جلد شروع کیا جائے اور انہیں خدمات میں شامل کرنے کے لیے ضروری رہنما اصولوں کو حتمی شکل دی جائے۔
انہوں نے یہ ہدایات اتوار 18 اکتوبر کو منعقدہ ایک جائزہ اجلاس میں دیں، جس میں پینے کے پانی کی فراہمی، سیوریج کے مسائل، گرین واٹر ٹینکر خدمات اور آئندہ موسم گرما کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
واٹر ٹینکروں کی کمی اور بکنگ میں تاخیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بودوپل علاقے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہاں پانی کی طلب کو دیکھتے ہوئے مزید 50 ٹینکروں کی رجسٹریشن کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ شہریوں کو کم وقت میں ٹینکر دستیاب ہوسکیں۔ بورڈ کا مقصد ان علاقوں میں پانی کی فراہمی بہتر بنانا ہے جہاں گرمیوں کے دوران پانی کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے، اور گزشتہ موسم گرما جیسی مشکلات کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکنا ہے۔
دوسری جانب، واٹر بورڈ یکم نومبر سے گرین واٹر ٹینکر خدمات شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس کے تحت صاف کیے گئے گندے پانی کو پینے کے علاوہ دیگر کاموں کے لیے فراہم کیا جائے گا۔
اس پانی کا استعمال عمارتوں کی تعمیر، باغبانی، پارکوں اور دیگر ایسے کاموں میں کیا جاسکے گا جہاں پینے کے صاف پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس مقصد کے لیے ٹینکروں کی رجسٹریشن تیز کرنے، ان پر یکساں شناختی نشانات لگانے اور پانی بھرنے کے مراکز کو بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
رجسٹرڈ ٹینکروں کی آن لائن بکنگ کی سہولت بھی تیار کی جا رہی ہے۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ 20 اکتوبر تک اس نظام کو مکمل کرے اور متعلقہ محکموں کے ساتھ اس کا تجرباتی آغاز کیا جائے۔
منیجنگ ڈائریکٹر اشوک ریڈی نے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس یعنی گندے پانی کو صاف کرنے والے مراکز کی کارکردگی پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز سے صاف کیے جانے والے پانی کا معیار مقررہ اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس سلسلے میں پروجیکٹس، آپریشنز اینڈ مینٹیننس اور امرت محکموں کے عہدیدار مشترکہ طور پر معائنہ کریں گے۔ اس دوران پانی کی صفائی کے عمل، لیبارٹریوں، پانی کے معیار کی جانچ اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا۔
جن مراکز میں خامیاں پائی جائیں گی، وہاں ضروری تکنیکی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ضرورت پڑنے پر اضافی فلٹر اور صفائی کے مزید مراحل بھی شامل کیے جائیں گے، جبکہ پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک ماہ کے اندر اصلاحی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
آئندہ موسم گرما میں پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے بورڈ گھٹکیسر، کیسرہ اور ملکاجگیری کے دائرہ اختیار میں آنے والے دیگر علاقوں میں پانی کے متبادل ذرائع کی بھی نشاندہی کرے گا۔ اس مقصد کے لیے دیہی واٹر سپلائی محکمے کے ساتھ مل کر ان زرعی بورویلوں کا جائزہ لیا جائے گا جن سے ماضی میں پانی حاصل کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے دستیاب دیگر ذرائع اور ٹینکروں میں پانی بھرنے کے لیے مناسب مقامات کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔
واٹر بورڈ منجیرا اور سنگور آبی ذخائر میں پانی کی دستیابی کا بھی جائزہ لے گا۔ اس کے ساتھ مشن بھگیرتا کے ذریعے فراہم کیے جانے والے پانی کی مقدار میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لے کر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں کو روکنے کے لیے بھی عہدیداروں کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کی بندش، وولٹیج میں اتار چڑھاؤ اور پانی کی بڑی پائپ لائنوں میں لیکیج جیسے مسائل کو دور کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
آپریشنز اینڈ مینٹیننس، پروجیکٹس اور ٹرانسمیشن محکموں کو باہمی تال میل کے ساتھ مرمت اور دیکھ بھال کے کام انجام دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کاموں کو آئندہ 15 دن سے ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ فیلڈ اسٹاف کے ساتھ روزانہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ پانی کی فراہمی سے متعلق شکایات، پائپ لائنوں میں لیکیج، سیوریج کے مسائل، زیر التوا شکایات اور مرمت کے کاموں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاسکے۔
اشوک ریڈی نے واضح کیا کہ دستیاب آبی وسائل کا بہتر استعمال، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور شہریوں کو بلا تعطل پینے کے پانی کی فراہمی واٹر بورڈ کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ پانی کا احتیاط سے استعمال کریں اور کہیں بھی پانی کی پائپ لائنوں میں لیکیج یا سیوریج سے متعلق مسائل سامنے آئیں تو فوری طور پر واٹر بورڈ کو اطلاع دیں، تاکہ بروقت کارروائی کرتے ہوئے پانی کے ضیاع کو روکا جاسکے اور شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کی جاسکیں۔