حیدرآباد کے کئی علاقوں میں 36 گھنٹوں تک پانی کی سپلائی بند رہے گی
حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو آئندہ 36 گھنٹوں تک پینے کے پانی کی سپلائی میں شدید خلل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (HMWSSB) کے مطابق کرشنا ڈرنکنگ واٹر سپلائی اسکیم فیز-2 کے تحت اہم پائپ لائنوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے کام انجام دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ہفتہ 10 جنوری کی صبح 6 بجے سے پانی کی سپلائی بند کر دی جائے گی۔
حیدرآباد: حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو آئندہ 36 گھنٹوں تک پینے کے پانی کی سپلائی میں شدید خلل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (HMWSSB) کے مطابق کرشنا ڈرنکنگ واٹر سپلائی اسکیم فیز-2 کے تحت اہم پائپ لائنوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے کام انجام دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ہفتہ 10 جنوری کی صبح 6 بجے سے پانی کی سپلائی بند کر دی جائے گی۔
واٹر بورڈ کے مطابق کودندا پور سے گوڈاکنڈلہ تک پمپنگ مین لائن میں موجود 200 ایم ایم قطر کی پائپ لائن میں لیکیج کو روکنے، خراب 2375 ایم ایم ایئر ٹیز اور والوز کو تبدیل کرنے، نسرالاپلی میں جنکشن کے کام، اور مختلف مقامات پر خراب بٹر فلائی والوز اور این آر ویز کو بدلنے کے کام کیے جائیں گے۔ ان ضروری مرمتی کاموں کے باعث شہر کے کئی حصوں میں پانی کی سپلائی متاثر رہے گی۔
پانی کی قلت سے متاثر ہونے والے علاقوں میں وناسٹل پورم، آٹو نگر، ناگولے، ویشالی نگر، بڈنگ پیٹ، لینن نگر، آدی بٹلہ، کماگوڑا، بالاپور، بارکس، مائیسور، ناچارم، تارناکہ، بودھن نگر، نل گٹہ، لالاپیٹ، ماریڈ پلی، پرکاش نگر، پٹی گڈہ، مکلامنڈی، مہندر ہلز، حشمت پیٹ، گوتم نگر، فیروز گڑہ، شاستری پورم، پرشاسن نگر اور نیشنل پولیس اکیڈمی کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔
واٹر بورڈ کے مطابق اتوار 11 جنوری کی شام 6 بجے تک پانی کی سپلائی بحال ہونے کی امید ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس دوران پانی کا محتاط اور مناسب استعمال کریں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔