حیدرآباد

ماہ رمضان کی تربیت سے استفادہ کرتے ہوئے تقوی اور استقامت کے پیکربنے رہیں ، نمازوں کے ذریعہ مساجد کی رونق برقرار رکھی جائے: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی کا خطاب

ڈاکٹر نقشبندی نے سورہ بقرہ آیت نمبر183کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روزہ کا بنیادی مقصد تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے تقویٰ کو سادہ انداز میں یوں واضح کیا کہ جس طرح انسان اپنی جان کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچتا اور پرہیز کرتا ہے، اسی طرح ایمان کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچنا اور پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔

حیدرآباد: ماہ رمضان المبارک میں روحانی تربیت کا بہترین نظام رکھا گیا تھا،رمضان کے بعد آنے والے گیارہ مہینوں میں بھی اسی تربیت سے استفادہ کرتے ہوئے روحانی کیفیات کو برقرار رکھناہماری ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
ایچ پی وی ویکسین: ایک انجکشن، سروائیکل کینسر کے خاتمے کی امید
تلنگانہ میں ای ڈی نے بھارتی بلڈرز کی جائیداد ضبط کرلی
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف

 ماہ  رمضان المبارک صرف ایک قمری مہینہ نہیں؛ بلکہ پوری زندگی سنوارنے کا عملی نصاب ہے، جس سے حاصل شدہ اسباق کو مستقل بنیادوں پر اپنانا ہی اصل کامیابی ہے۔

ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر مفتی حافظ سید احمد غوری نقشبندی قادری نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ وڈائرکٹر مرکز انوار السنہ نے بروز اتواربعد نماز ظہر قطب شاہی جامع مسجد مشیرآباد میں عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا کہ صرف چاند کے بدلنے سے مسلمان اپنے انداز کو بدل نہیں سکتا، چاند تو بدلتا ہے مگر اسلام کا نظام نہیں بدلتا، اس لئے بندگی اور اطاعت کا سلسلہ بھی ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔

ڈاکٹر نقشبندی نے سورہ بقرہ آیت نمبر183کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روزہ کا بنیادی مقصد تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے تقویٰ کو سادہ انداز میں یوں واضح کیا کہ جس طرح انسان اپنی جان کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچتا اور پرہیز کرتا ہے، اسی طرح ایمان کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچنا اور پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔

صاحب روح المعانی نے ”تقوی“کے مفہوم کو اس طور پر سمجھایا کہ تقوی: حاضری اور غیر حاضری سے عبارت ہے،یعنی بندہ اطاعت کے مواقع ومقامات پر حاضر رہے اور گناہوں اور معصیت کے مواقع ومقامات  پرموجود نہ رہے۔مولانا نے رمضان کی عملی تربیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ روزہ کے دوران انسان حلال چیزوں (کھانے، پینے اور ازدواجی تعلقات) سے بھی اللہ تعالی کے حکم پر رکا رہتا ہے۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب انسان حلال چیزوں سے رک سکتا ہے تو حرام سے رکنا اس کے لئے مزید آسان ہونا چاہیے۔  رمضان انسان کے اندر ضبطِ نفس اور اللہ کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے جسے باقی سال میں بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر نقشبندی نے”مراقبہ“یعنی اللہ تعالی ہمیں دیکھ رہا ہے،اس احساس کو رمضان کی ایک اہم تربیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزہ دار تنہائی میں بھی کھانے پینے کی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے۔

اسی کیفیت کو زندگی کے ہر لمحے میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک ملازم کیمرے کی نگرانی میں غلطی سے بچتا ہے، اسی طرح ایک مومن کو ہر وقت یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب کی نگرانی میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک میں مساجد کی رونق اور نمازیوں کی کثرت تھی، یہ سلسلہ بعد از رمضان بھی جاری رکھا جائے۔ پانچ وقتہ نمازوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حدیث شریف کے ذریعہ ایک تمثیل پیش کی گئی کہ اگر کسی کے گھر کے سامنے نہر بہہ رہی ہو اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ اس میں غسل کرے تو اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہتا، اسی طرح پانچ وقت کی نمازیں انسان کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کر دیتی ہیں۔

مساجد رحمت کا سرچشمہ ہیں، یہاں روحانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے؛اگر چہ کہ وہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر:6464) استقامت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے بتلایا گیا کہ جس طرح پانی کے قطرے مسلسل گرنے سے سخت پتھر میں بھی سوراخ کر دیتے ہیں۔

اسی طرح عبادت میں تسلسل انسان کے دل کو نرم اور زندگی کو سنوار دیتا ہے۔مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیب ؒ نے پچاس سال تک تکبیرِ تحریمہ فوت نہیں ہونے دی۔ہر نماز جماعت کے ساتھ،پہلی صف میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ ادا فرماتے رہے۔

موسم کی تبدیلی،حوادث کا نزول اور جسمانی امراض آپ کی استقامت میں فرق نہ لاسکے۔آپ کی استقامت ہی کی برکت تھی کہ ایام حرہ میں جب یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کروایا تو تین دن تک مسجد نبوی شریف میں نہ اذان ہوئی نہ نماز۔

حضرت سعید بن مسیب ؒ کی بینائی جاچکی تھی،انہیں کوئی گھر پہنچانے والانہ تھا،انہون نے مسجد نبوی ہی کے ایک گوشہ میں پناہ لے لی،وہ نابینا ہونے کی وجہ سے نمازکا وقت معلوم نہ کرپاتے اور کوئی شخص وہاں موجود نہ تھا جس سے وقت معلوم کرسکیں،ایسے میں جب بھی نماز کا وقت ہوتا تو رسول اکرم ﷺ کی قبر اطہر سے اذان کی آواز آتی اور وہ اسی اذان کی آواز سن کر نمازیں ادا کرتے۔

صحیح مسلم میں حدیث شریف ہے،حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ نے فرمایا:میں نے حضرت رسول اللہ ﷺکی خدمت میں عرض کیا:یارسول اللہﷺمجھے اسلام کے متعلق ایسی جامع نصیحت فرمائیں کہ مجھے اس کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے!

آپ نے ارشاد فرمایا:تم کہو:میں اللہ تعالی پر ایمان لایا،اور پھر اس پر استقامت کے ساتھ (ثابت قدم) رہو!۔(صحیح مسلم)استقامت کی مختلف اقسام ہیں،ایمان پر استقامت،فرائض وواجبات پر استقامت اور مستحبات اور وظائف پر استقامت۔ استقامت علی الایمان سے متعلق بخاری ومسلم میں حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے:حضرت رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا:تین باتیں جس میں ہوں ان کی وجہ سے وہ ایمان کی حلاوت پائے گا(1)اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ اس کی نظرمیں تمام ماسوائے اللہ سے زیادہ پیارے ہوں (2)اس کواگرکسی سے محبت ہوتوصرف خدائے تعالی کے لئے ہو(3)جوکفرکی طرف لوٹ جانے کواتناہی براسمجھے جتناکہ آگ میں ڈالے جانے کوبراسمجھتاہے جبکہ اللہ تعالی نے اسے کفرسے بچالیاہے۔

ڈاکٹر نقشبندی نے اس بات کی تلقین کی کہ لوگ رمضان المبارک میں حاصل ہونے والی روحانی تربیت؛خواہ وہ روزوں کے ذریعہ ہو، اعتکاف یا تراویح کے ذریعہ ہو اس کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس کے اثرات کو رمضان کے بعد بھی برقرار رکھیں۔