قومی

حکومت آخر اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟کانگریس کا بی جے پی سے سوال

کانگریس نے آج پارٹی قائد پرینکا گاندھی وڈرا اور تاجر رابرٹ وڈرا کے لڑکے ریحان وڈرا کی تصاویر کو جن میں دہلی کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کو پیش کیا گیا تھا، ایک نمائش سے ہٹادینے پر بی جے پی پر کڑی تنقید کی اور سوال کیا کہ حکمراں جماعت ان کی اختراعیت اور صلاحیتوں سے کیوں خوفزدہ ہے۔

نئی دہلی (آئی ا ے این ایس) کانگریس نے آج پارٹی قائد پرینکا گاندھی وڈرا اور تاجر رابرٹ وڈرا کے لڑکے ریحان وڈرا کی تصاویر کو جن میں دہلی کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کو پیش کیا گیا تھا، ایک نمائش سے ہٹادینے پر بی جے پی پر کڑی تنقید کی اور سوال کیا کہ حکمراں جماعت ان کی اختراعیت اور صلاحیتوں سے کیوں خوفزدہ ہے۔

ریحان نے الزام لگایا تھا کہ بیکانیر ہاؤس انتظامیہ نے ان کی نمائش بعنوان ”نوآئیڈیا اِز فائنل“ کے چہارشنبہ کے روز آغاز سے چند گھنٹے پہلے انہیں زائد از 70 تصاویر ہٹادینے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عہدیداروں نے انہیں 2 ایسی تصاویر بھی ہٹادینے کی ہدایت دی تھی جن میں قومی پرچم کو پیش کیاگیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس مطالبہ کی تکمیل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ جیبی ماتھر نے کہا کہ ہرشخص آزادی تقریر و اظہار کا بنیادی حق رکھتا ہے جس کا استعمال الفاظ، تصاویر اور اختراعی صلاحیتوں کو پیش کرنے نمائشوں کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ اِس پر پابندی کس طرح لگائی جاسکتی ہے۔

آخر حکومت اتنی خوف زدہ کیوں ہے۔ اگر ریحان وڈرا تصاویر پیش کررے ہیں اور نمائش منعقد کررہے ہیں تو انہیں کیو ں روکا جارہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی صرف احتجاجی مظاہروں سے خوفزدہ نہیں ہے بلکہ قومی دارالحکومت میں نوجوانوں کی جانب سے قومی پرچم لہرائے جانے سے بھی خوف زدہ ہے۔

کانگریس قائد اُدت راج نے بھی مبینہ پابندیوں پر تنقید کی اور قومی پرچم کے ساتھ کئے جانے والے سلوک پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پورے احترام کے ساتھ ترنگا لہرانے کی آزادی ہونی چاہئے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہاں ایسی پابندیاں کیوں لگائی جارہی ہیں۔

امریکہ میں تو لوگ اپنی ٹی شرٹس اور ٹوپیوں پر قومی پرچم کی تصویر بناتے ہیں اور فخر کے ساتھ ان چیزوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن یہاں محض رسوم و رواج ہیں کوئی حقیقی جذبہ نہیں ہے۔

11 ستمبر کو کئے گئے حملوں کے بعد امریکہ میں عوام کے اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے اُدت راج نے کہا کہ یہ ردِعمل ان کی توقع سے کہیں زیادہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس قومی پرچم کا حقیقی احترام نہیں کرتے اور کہا کہ وہ سیاسی اقتدار کو ترجیح دیتے ہیں۔

اُدت راج نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس سے پہلے آر ایس ایس نے بھی قومی پرچم کی مخالفت کی تھی۔ اگر حالیہ عام انتخابات میں بی جے پی کو 400 نشستیں حاصل ہوتیں تو وہ زعفرانی پرچم کو فروغ دیتی۔