حیدرآباد

کیا حیدرآباد اب مو تیوں کے شہر کے بجائے آگ زنی کے واقعات سے پہچانا جائے گا؟ بڑھتے حادثات نے حیران کن

حیدرآباد، جو کبھی مو تیوں کے شہر کے طور پر جانا جاتا تھا، اب تیزی سے آتشزدگی کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے ایک تشویشناک شناخت کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

حیدرآباد، جو کبھی مو تیوں کے شہر کے طور پر جانا جاتا تھا، اب تیزی سے آتشزدگی کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے ایک تشویشناک شناخت کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی رپورٹس نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ انتہائی افسوسناک بھی ہیں۔ اس مصروف اور بھاگ دوڑ والے شہر میں پیش آنے والے حادثات پر وقتی طور پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے، مگر چند گھنٹوں بعد سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، حیدرآباد اور اس کے نواحی علاقوں میں گزشتہ گیارہ مہینوں کے دوران 8,159 آتشزدگی کے واقعات پیش آئے، جن میں 163 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

ریاستی ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ سال جنوری سے نومبر کے درمیان شہر اور اطراف میں آگ سے متعلق حادثات میں مجموعی طور پر 163 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی مدت میں آگ لگنے کے واقعات کی تعداد 8,159 رہی، جو اپنے آپ میں ایک خطرناک اشارہ ہے۔ گزشتہ سال کے دو بدترین آتشزدگی کے سانحات بھی شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ہی پیش آئے، جنہوں نے انتظامی لاپرواہی اور حفاظتی انتظامات کی قلعی کھول دی۔

رہائشی علاقوں میں پیش آنے والا سب سے ہولناک واقعہ 18 مئی کو چارمینار کے گلزار حوض میں پیش آیا، جہاں ایک مکان میں آگ لگنے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 17 افراد جاں بحق ہو گئے۔ آگ کا آغاز ایک اے سی یونٹ سے ہوا تھا اور رہائشیوں کے پاس باہر نکلنے کا کوئی محفوظ راستہ موجود نہیں تھا، جس کے باعث پورا خاندان دھوئیں اور شعلوں میں گھر گیا۔

اسی طرح ملک کے بدترین صنعتی سانحات میں شمار کیے جانے والے واقعے میں، سنگاریڈی کے پاشامیلا رام میں واقع سگاچی فارما میں ری ایکٹر دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ 44 مزدوروں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم آٹھ افراد تاحال لاپتہ ہیں اور انہیں مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ان بڑے سانحات کے علاوہ، ناقص حفاظتی انتظامات اور فائر فائٹنگ آلات کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں افراد کا روزگار بھی متاثر ہوا، کیونکہ متعدد دکانیں، مکانات اور کاروباری مراکز آگ کی نذر ہو گئے۔ شہر اور اس کے اطراف میں تقریباً ہر ماہ کسی نہ کسی علاقے سے آتشزدگی کی خبر سامنے آتی رہی۔

گزشتہ سال کے دوران پیش آنے والے چند اہم واقعات میں جیڈی میٹلا صنعتی علاقے میں کیمیکل گودام کی آگ، شیخ پیٹ میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں لگنے والی آگ، حسین ساگر میں آتش بازی کے دوران کشتی اور جیٹی میں آگ لگنے کا واقعہ شامل ہے جس میں ایک نوجوان ہلاک ہوا۔ اسی طرح بچوپلی، فلک نما، گڈی ملکاپور، کشن باغ، چرلاپلی، دیوان دیوڑھی، مٹی کا شیر، پاشا کالونی، امبرپیٹ، ایرراگڈہ، کوکا پیٹ، پارک حیات ہوٹل، حیات نگر، پپلاگوڑا، اٹاپور اور بنجارہ ہلز جیسے علاقوں میں بھی مختلف نوعیت کی آتشزدگیاں پیش آتی رہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں آتشزدگی کے واقعات کے باوجود حفاظتی انتظامات کیوں مؤثر نہیں کیے جا رہے؟ عمارتوں کے پی یو سی اور فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس کی جانچ کیوں نہیں ہو رہی؟ لاپرواہی برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کیوں عمل میں نہیں لائی جاتی؟ یہی صورتحال دونوں تلگو ریاستوں کی بسوں کے ساتھ بھی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں کئی حادثات میں بسوں کو آگ لگنے سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد حکومت متاثرین کے لیے ایکس گریشیا کا اعلان کرتی ہے، فائر ڈیپارٹمنٹ تحقیقات کرتا ہے، کچھ دن شور شرابا اور خبریں چلتی ہیں، اور پھر معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ بعض اوقات عمارتوں کے مالک محض ایک بھاری رقم ادا کر کے اپنی ذمہ داری سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ وہی غیر محفوظ عمارتیں دوبارہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ہر عمارت کے فائر سیفٹی اور پی یو سی سرٹیفکیٹس کا سنجیدگی سے جائزہ لے، حفاظتی آلات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور عمارتوں میں ایمرجنسی اخراج کے راستوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اکثر عمارتوں میں باہر نکلنے کے راستے انتہائی تنگ ہوتے ہیں، جس کے باعث آگ لگنے کی صورت میں دھواں بھر جاتا ہے اور اندر پھنسے افراد گھبراہٹ میں مزید مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

بالخصوص ان علاقوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جہاں تنگ گلیوں میں بڑے شاپنگ کمپلیکس اور عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ شہر کے ہوٹلوں پر بھی خصوصی نگرانی ضروری ہے، جہاں کچن میں لاپرواہی اکثر بڑے حادثات کا سبب بنتی ہے۔ بصورت دیگر، آتشزدگی کے یہ واقعات اسی طرح قیمتی انسانی جانیں نگلتے رہیں گے۔