سیاستمضامین

سکّے نہیں سوچ چھوٹی ہوتی ہے

محمد مصطفی علی سروری

مَیور ہیلیا (Mayur Helia)کا تعلق ممبئی سے ہے۔ وہ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں موٹر لوڈر کا کام کرتے ہیں اور پچھلے 12 برسوں سے اس کی یہی نوکری ہے۔ لیکن اب مایور اپنی نوکری چھوڑ کر برطانیہ جارہا ہے جہاں پر وہ برطانوی یونیورسٹی میں پوری طرح اسپانسر کردہ ڈاکٹورل پروگرام پی ایچ ڈی کا کورس کرے گے ۔
پی ایچ ڈی کا موضوع بھی جان لیجئے کہ میور کس موضوع پر اپنا پی ایچ ڈی کا تحقیقی کام کریں گے۔ اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ان کی تحقیق کا موضوع ’’صفائی کرنے والوں کو درپیش خطرات‘‘۔
قارئین کرام صرف ممبئی سے نہیں بلکہ دنیا بھر سے ہزاروں، لاکھوں نوجوان ہر سال اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے میں میور کی خاص بات کیا ہے کہ اخبارات نے اس حوالے سے خبریں شائع کیں۔ دراصل میور کا پس منظر اس خبر کی سب سے اہم بات ہے۔ برطانیہ جانے سے پہلے میور ہر رات کو 10 بجے باندرا میں اپنی ڈیوٹی پر جایا کرتا تھا۔ باندرا کی موٹر لوڈر چوکی پر اس کی ڈیوٹی ہوا کرتی تھی، جہاں و ہ کچرا اٹھایا کرتا تھا۔
میور کی عمر جب 18 برس تھی تو اس کے والد کا طویل علالت کے باعث انتقال ہوگیا تھا اور آن ڈیوٹی موت کی وجہ سے میور کو اپنے والد کی نوکری ملی۔ یوں میور، ممبئی میونسپل کارپوریشن میں کام کرنے لگا تھا۔ وہ بورے ویلی کے مغربی حصے میں پدمابائی چال کے کمرہ نمبر 5 میں رہتا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی ماں، ایک چھوٹا بھائی اور بہن تھے۔
میونسپل کارپوریشن میں صفائی کرمچاری کا کام کرتے ہوئے میور نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ پدمابائی چال سے باہر نکل کر کچھ اور کرسکے گا۔
ہاں میور کو باکسنگ کا جنون تھا۔ اسکولی زمانے میں اس نے باکسنگ کے مقابلے کھیلے اور ان میں ٹرافیاں بھی جیتیں۔ ان کامیابیوں کی بدولت میور کا ممبئی کے ولسن کالج میں ڈگری میں داخلہ ہوگیا تھا۔ میور کو اپنے کام اور اپنی ذات کے بارے میں اچھے سے معلوم تھا۔ ڈگری کامیاب ہونے کے بعد اس نے ٹاٹا انسٹیٹیو ٹ آف سوشیل سائنسس میں ایم اے ان سوشیل ورک ان دلت اینڈ ٹرائبل اسٹڈیز میں داخلہ لیا۔ سال 2017ء کے دوران مایور نے ایم اے مکمل کرنے کے بعد ٹاٹا انسٹیٹیوٹ سے ہی ایم فل میں داخلہ لیا۔ انڈین ایکسپریس میں 22مارچ 2023ء کو مایور کے متعلق ایک رپورٹ شائع ہوئی۔
انڈیا ٹوڈے ٹیلی ویژن چیانل نے بھی 22؍ مارچ کو میور کے متعلق ایک رپورٹ نشر کی۔ انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے میور کی ماں شانتا نے بتلایا کہ ’’میں صرف ساتویں جماعت تک ہی اپنی مادری زبان گجراتی میں تعلیم حاصل کرسکی۔‘‘لوگ ہمارے سامنے انگلش میں بات کر کے ہمیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ جو تعلیم میں حاصل نہیں کرسکی وہ تعلیم میرے بچے حاصل کرکے دکھائیں گے۔
18 سال کی عمر میں میور کو ممبئی میونسپل کارپوریشن میں والد کی نوکری مل گئی جس کے دوران وہ کارپوریشن کی گاڑیوں میں کچرا اٹھانے اور لوڈ کرنے کا کام کرتا تھا۔ کچرا اٹھانے کی نوکری رات کی شفٹ میں تھی تو ماں نے ترغیب دلائی اور میور نے محنت کی۔ یوں وہ دن میں پڑھتا اور رات میں نوکری کرتا تھا۔
میور نے ٹیلی ویژن چیانل کو بتلایا کہ گاڑیوں میں کچرا اٹھانے کا کام بہت زیادہ محنت طلب ہوتا ہے اور یہ مجھے بھی تھکا دیتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ جسم کی ساری انرجی ختم ہوگئی۔ میور کے مطابق اس کے ساتھ کام کرنے والے لوگ اکثر اپنی سخت محنت کی تھکن اتارنے کے لیے نشہ کرتے تھے اور یہ نشہ عادت نہیں، ان کی مجبوری تھی۔ میں نے نشہ کے بجائے کھیل کود سے اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی کوشش کی۔ کیونکہ میور کے مطابق اگر وہ نشہ کرتا تو دن میں پڑھائی کے لیے وقت نہیں دے پاتا۔
میڈیاء میں جب ایک دلت طالب علم کے حوالے سے یہ بات پھیل گئی کہ دن میں پڑھائی کرنے والا یہ نوجوان رات میں کچرا اٹھانے کا کام کرتا ہے تو میڈیا کے نمائندے میور کی چال پر پہنچنے لگے۔ وہاں پر سبھی نے نوٹ کیا کہ یہ دلت طالب علم اپنے کمرے میں اپنے ہیرو بھیم رائو امبیڈکر کی تصویر اور ان کے اقوال کو فخر سے سجائے ہوئے ہے۔
میور سے اس کی کامیابی کا راز پوچھا گیا تو اس نے بلا کسی تردد کے کہا کہ اس کی ماں کی محنت تھی جس نے خراب حالات میں بھی اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلے کو نہیں روکا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ممبئی کے چال کا رہنے والا یہ دلت نوجوان اب برطانیہ جاکر اپنی ڈاکٹورل ریسرچ پوری کرے گا۔
میور نے ارادہ کرلیا ہے کہ اب وہ ایک پروفیسر بن کر تعلیم کے میدان میں اپنی خدمات انجام دے گا۔
قارئین جب ماں ارادہ کرلیتی ہے تو بچے کے لیے تھکن کا احساس نہیں رہتا۔ جب ماں ہمت دلاتی ہے تو بچہ دن میں پڑھائی کرتا اور رات نوکری کرتا ہے۔ ماں کی ترغیب ملے تو بچہ اپنی چال کے کمرے میں بھی آسانی سے پڑھ لیتا ہے۔
ماں خود انگریزی سے ناواقف ہوتی ہے لیکن اپنے بچوں کو انگریزی کی تعلیم دلوانے کا ارادہ کرلیتی ہے تو پوری طرح اسکالر شپ کے ذریعہ بچے کو برطانیہ جاکر پڑھنا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔ کاش کہ میور کی ماں کے جذبہ اور محنت سے دیگر خواتین بھی کچھ سیکھیں اور اپنے بچوں کے لیے ارادہ کرلیں۔
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام کا ایک ضلع جس کا نام ٹن شکلا ہے۔ اس کا ایک بلاک ہے جس کا نام ڈوم ڈوما اور اس بلاک کا ایک گائوں ہے جس کا نام بور گائوں ہے۔ اس گائوں کی کل آبادی سال 2011ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور محمد سید الحق اسی گائوں کا رہائشی ہے۔
قارئین کرام محمد سید الحق کے متعلق خبر رساں ادارے ANI ہندی نیوز نے 22؍ مارچ 2023ء کو ایک دلچسپ خبر جاری کی۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ غریب ہونا کوئی خراب بات نہیں بلکہ خرابی تو اصل میں خراب سوچ سے ہے۔
خبر کی تفصیلات کے مطابق تقریباً 6 برس قبل سید الحق نے ارادہ کیا کہ وہ بھی ہونڈا کی ایک بغیر گیئر والی گاڑی خریدے لیکن اس نوجوان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ غریب تھا اور اس کے پاس خریدنے کے لیے اتنی رقم بھی نہیں تھی۔ ہاں اگر کچھ تھا تو وہ ارادہ تھا۔ بس سید الحق نے اپنے ارادے کو مضبوط کرلیا کہ چاہے کچھ بھی ہووہ بھی محنت کرے گا اور پنے لیے گاڑی خریدے گا۔
قارئین مجھے تعجب ہوتا ہے جب والدین اپنے اسکول جانے والے بچوں کو گاڑیاں خرید کر دلواتے ہیں۔ حالانکہ ان کی عمر ابھی اتنی بھی نہیں کہ وہ قانونی طور پر گاڑی چلانے کا لائسنس بنوا سکیں لیکن والدین کے اس بے جا لاڑ وپیار کا نتیجہ ہوتا ہے کہ یہ بچے سڑکوں پر گاڑی چلاتے نہیں بلکہ لوگوں پر چڑھانے کے لیے ہر دم آمادہ نظر آتے ہیں۔
خیر سے ہم آسام کے اس گائوں والے نوجوان کی طرف واپس لوٹتے ہیں جس نے 2017ء میں اس بات کا مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ وہ ایک گاڑی خریدے گا۔ اب نوجوان کی مصروفیات کیا ہیں وہ بھی جان لیجئے۔ یہ نوجوان اپنے گائوں میں ایک چھوٹی سی دوکان چلاتا تھا۔ اب اس نوجوان کو جو کچھ بھی کرنا تھا بس وہ اسی دوکان کی آمدنی پر منحصر تھا۔
ارادہ مضبوط تھا اور مستقل مزاجی نے ساتھ دیا تو اس دوکاندار نے روزآنہ بچت کرنا شروع کیا اور یہ رقم کوئی بہت زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ کبھی کم، کبھی زیادہ لیکن ایک بات تو طئے تھی کہ بچت کے لیے سید الحق نے کسی دن بھی چھٹی نہیں کی۔
قارئین گائوں کے اس نوجوان کے پاس نوٹ بھی نہیں بلکہ بچت پوری کی پوری چلر کی شکل میں ہوتی تھی۔
اپنے سکوں کو یہ نوجوان جمع کرتا رہا۔ دو ایک نہیں بلکہ چھ برس کا طویل عرصہ گذر گیا تب کہیں بورگائوں کا یہ نوجوان اپنے گائوں سے 70 کیلومیٹر پر واقع درانگ شہر میں ہونڈا گاڑی کے شوروم پہنچتا ہے اور ہونڈا گاڑی خریدنے کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ گاڑی کی قیمت پتہ کرنے اور تفصیلات حاصل کرنے تک تو سب ٹھیک تھا۔
درانگ شہر میں ہونڈا شوروم کے مالک منیش کو یہ سن کر تعجب ہوا کہ ایک شخص گاڑی خریدنے کے لیے شوروم تو آیا ہے مگر وہ اپنی ادائیگی سکوں کی شکل میں تھیلے میں لایا ہے۔ سید الحق کی پوری بات سن کر منیش نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا اور گاڑی کی قیمت سکوں کی شکل میں قبول کرنے آمادگی ظاہر کی۔
اور قارئین دو ایک نہیں پورے 90 ہزار سے زائد کی رقم سید الحق نے سکوں کی شکل میں شوروم کو ادا کیے اور گاڑی خرید کر اپنے خواب کو چھ برسوں میں مکمل کر کے اپنے گھر کی راہ لی۔ تھوڑا سا حساب کریں تو پتہ چلے گا کہ اوسطاً سید الحق نے جو کہ ایک چھوٹے گائوں کا دوکاندار ہے روزآنہ 40 تا 42 روپئے جمع کرتا رہا اور مستقل مزاجی نے رنگ دکھایا۔ بالآخر چھ برس کے طویل عرصے میں سید الحق اپنی گاڑی کا مالک بن گیا۔
ذرا اندازہ لگایئے کہ گاڑی خریدنے کے لیے کتنی محنت اور کس قدر بچت کرنی پڑی ہوگی اور اس کا بہتر احساس سید الحق سے زیادہ کسی دوسرے کو نہیں ہوسکتا ہے۔ جو نوجوان والدین سے لاڑ و محبت میں تحفے کے طور پر گاڑیاں حاصل کرتے ہیں ان سے ہم کفایت شعاری، بچت اور اپنے شوق کو تر ک کر کے دوسروں کے بارے میں خیال کرنے کی توقع کیسے کرسکتے ہیں۔
ممبئی کی چال کا میور ہو یا بور گائوں کا سید الحق ان نوجوانوں کی جدو جہد اور کامیابی بہت ساری باتیں ثابت کرتی ہیں کہ جب والدین خود اپنے بچوں کی تربیت کا تہیہ کر لیتے ہیں تو اللہ رب العزت بھی ان بچوں کی کامیابی کے سفر کو آسان بنادیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے اور ہمارے بچوں کے لیے محنت کے راستے کو سہل بنادے۔ آمین
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)۔sarwari829@yahoo.com
۰۰۰٭٭٭۰۰۰