ایشیاء

مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر پاکستان کو اہمیت دینا ہندستان کی سفارتی ناکامی: کانگریس

کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے ثالث کے طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے والے پاکستان کا نام سامنے آنا ہندستان کی سفارتی ناکامی ہے اور اب وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے ثالث کے طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے والے پاکستان کا نام سامنے آنا ہندستان کی سفارتی ناکامی ہے اور اب وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
ہندوستان کے پہلے فوجی طیارہ ساز یونٹ کا افتتاح
روسی صدر کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے میں مدد کی پیشکش
پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف 19 برس بعد تاریخی جیت
ریونت ریڈی کرپشن کے شہنشاہ، تلنگانہ کے مفادات کو نظرانداز کر رہے ہیں: کویتا


جمعرات کو ایک بیان میں کانگریس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک کو ثالث کے طور پر قبول کرنا انتہائی قابل اعتراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کو فروغ دینے، اسامہ بن لادن جیسے دہشت گردوں کو پناہ دینے، جوہری عدم پھیلاؤ کے قوانین کی خلاف ورزی اور اے کیو خان نیٹ ورک کے ذریعے جوہری پھیلاؤ میں ملوث رہا ہے۔

اس نے افغانستان میں شہری اہداف پر حملے کیے نیز اپنے ہی شہریوں اور اقلیتوں کے خلاف کارروائی کی۔


مسٹر رمیش نے کہا کہ 2008 کے ممبئی حملے کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن حالیہ واقعات میں ایسا نہیں ہوسکا۔ عاصم منیر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر مزید متعلقہ ہوتا جا رہا ہے۔


انہوں نے الزام لگایا، "ہماری حکومت کی سفارت کاری، عالمی رابطہ اور بیانیہ کے انتظام میں کمزوریوں کی وجہ سے، ایک غیر مستحکم ملک کو ’’بروکر‘‘ کا کردار مل گیا ہے، جو ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔”