مغربی ایشیا کی جنگ سے ڈھائی ہزار کروڑ روپے کے قالین سمندری راستے میں پھنسے
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں حالات کشیدہ ہیں اور آبنائے ہرمز سے مال بردار جہازوں کی آمد ورفت تقریباً مکمل طور پر متاثر ہو گئی ہے۔
بھدوہی : مغربی ایشیا میں جاری جنگ اورٹرمپ ٹیرف کے بعد قالین صنعت پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا راستہ متاثر ہونے کے باعث مال بردار بحری جہاز مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً ڈھائی ہزار کروڑ روپے مالیت کے قالین سمندری راستے میں ہی رکے ہوئے ہیں۔
کارپٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل کے نائب صدر اسلم محبوب نے بدھ کو یہاں بتایا کہ امریکی ٹیرف کے اثرات سے نکلنے کے بعد قالین صنعت نے ابھی کچھ راحت محسوس ہی کی تھی کہ خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں حالات کشیدہ ہیں اور آبنائے ہرمز سے مال بردار جہازوں کی آمد ورفت تقریباً مکمل طور پر متاثر ہو گئی ہے۔
جنگ کے باعث قالینوں سے بھرے کنٹینرلدے جہاز راستے میں مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خلیج میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تجارتی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کے سبب برآمدی آرڈرز تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
دوسری طرف آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت رکنے کے باعث ڈھائی ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے قالین راستے میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ اسلم محبوب نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں کارپیٹ سٹی بھدوہی کے قالین میگا مارٹ میں منعقد ہونے والے قالین ایکسپو میں ملے برآمدی آرڈرز کو پورا کرنے کے لئے تاجر تیزی سے کام کر رہے تھے، لیکن اسی دوران آبنائے ہرمز کا تجارتی راستہ متاثر ہونے سے بیرونی منڈیوں کو بھیجے گئے قالین مختلف مقامات پر رکے رہ گئے ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید بڑھا یا طویل ہو گیا تو اس کا اثر اپریل 2026 میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والے پچاسویں بین الاقوامی قالین میلے پر بھی پڑ سکتا ہے۔