اننت پور کے اسکول میں دسویں جماعت کی طالبہ پر چینسا سے حملہ، حالت نازک، ایئر ایمبولینس سے بنگلورو منتقل
اس واقعہ کے بعد اسکول میں موجود طلبہ اور دیگر افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت کلاس روم میں 31 طلبہ موجود تھے۔ واردات کے بعد ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے اسے دھرم ورم کی جانب فرار ہوتے وقت گرفتار کرلیا۔
اننت پور: آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور کے منڈل رپتھاڈو میں 31 اکتوبر کی صبح ایک سرکاری اسکول میں داخل ہوکر ایک نوجوان نے دسویں جماعت کی طالبہ پر چینسا (برقی آری) سے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں طالبہ کے چہرے اور سر پر شدید زخم آئے۔ حملے کو روکنے کی کوشش کرنے والی ایک دوسری طالبہ بھی زخمی ہوگئی۔
اس واقعہ کے بعد اسکول میں موجود طلبہ اور دیگر افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت کلاس روم میں 31 طلبہ موجود تھے۔ واردات کے بعد ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے اسے دھرم ورم کی جانب فرار ہوتے وقت گرفتار کرلیا۔
ملزم کی شناخت دھرم ورم منڈل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق وہ متاثرہ طالبہ کا قریبی رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسکول میں مرمتی کام جاری تھا اور ملزم کو مزدور سمجھ کر اسکول کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
پولیس نے اقدام قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے کے لیے کلوز ٹیم اور ڈاگ اسکواڈ کو بھی طلب کیا گیا۔
دونوں زخمی طالبات کو ابتدائی طور پر اننت پور کے گورنمنٹ جنرل ہاسپٹل منتقل کیا گیا، جہاں شدید زخمی طالبہ کی ہنگامی سرجری کی گئی۔ بعد ازاں بہتر علاج کے لیے اسے ایئر ایمبولینس کے ذریعہ بنگلورو کے ایک ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔
دریں اثنا، چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے متاثرہ طالبہ کی والدہ سے فون پر بات کی اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ لڑکی کو بہترین ممکنہ طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
وزیر تعلیم نارالوکش اور وزیر داخلہ ونگلاپوڈی انیتا نے بھی اس وحشیانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ پولیس واقعہ کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔