نتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عرب جماعتوں سے اتحاد کا مطالبہ
اسرائیل میں سینکڑوں افراد نے ہفتے کے روز سڑکوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ، وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کریں۔ دوسری جانب نتن یاہو نے عرب جماعتوں کے رہنماؤں پر اپنے حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔
تل ابیب: اسرائیل میں سینکڑوں افراد نے ہفتے کے روز سڑکوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ، وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کریں۔ دوسری جانب نتن یاہو نے عرب جماعتوں کے رہنماؤں پر اپنے حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔
منگل کو ہونے والے انتخابات میں عرب اکثریتی جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اسے نتن یاہو کی سخت گیر دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے عرب اقلیت کے خلاف بیان بازی پر پائے جانے والے غصے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی کوشش کریں گے یا نہیں۔
تل ابیب کے اجتماع میں شریک 60 سالہ ماہر نفسیات اییلت راز نے کہا کہ عرب شہری، جو اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں، سیاسی عمل میں شرکت کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقی تبدیلی لانے کا آخری موقع ہے۔ انہوں نے نتن یاہو کو ایک ماہر چال باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن کو موقع دینا ہوگا، ورنہ خونریزی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں کسی بھی کیمپ کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ نتن یاہو مخالف یہودی اکثریتی جماعتوں نے 48 نشستیں جیتیں، جبکہ عرب اکثریتی جماعتوں متحدہ عرب فہرست (راعم) اور مشترکہ فہرست نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔ دونوں کیمپوں کے اتحاد سے نتن یاہو مخالف بلاک کو 67 نشستوں کی آرام دہ اکثریت مل سکتی ہے، تاہم اپوزیشن کی بعض جماعتیں اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہیں۔
تل ابیب میں تقریباً 500 مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ”عرب اور یہودی صرف مل کر ہی کامیاب ہوں گے” اور ”تبدیلی کے لیے اکثریت موجود ہے” جیسے نعرے درج تھے۔
عرب جماعتیں صرف ایک مرتبہ باضابطہ طور پر اسرائیلی حکومت کا حصہ بنی ہیں، جب راعم کے رہنما منصور عباس 2021 سے 2022 تک قائم رہنے والے مختصر مدتی حکومتی اتحاد میں شامل ہوئے تھے۔ عباس نے ایک بار پھر ایسا اتحاد بنانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ مشترکہ فہرست کے یوسف جبارین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ پارلیمان میں آئزن کوٹ کی حمایت کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔