تلنگانہ میں جعلی ایس ٹی سرٹیفکیٹس سے ایم بی بی ایس نشستیں حاصل کرنے والے 37 طلبہ کی نشاندہی
کالو جی نارائنا راؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (KNRUHS) کی جانب سے سرٹیفکیٹس اور داخلہ ریکارڈ کی جانچ کے دوران ان طلبہ کی نشاندہی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ طلبہ مہاراشٹرا، راجستھان اور کرناٹک سے تعلق رکھتے ہیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں جعلی ایس ٹی (ST) سرٹیفکیٹس کے ذریعے ایم بی بی ایس کی نشستیں حاصل کرنے یا داخلے کے لیے درخواست دینے والے دیگر ریاستوں کے 37 طلبہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کالو جی نارائنا راؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (KNRUHS) کی جانب سے سرٹیفکیٹس اور داخلہ ریکارڈ کی جانچ کے دوران ان طلبہ کی نشاندہی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ طلبہ مہاراشٹرا، راجستھان اور کرناٹک سے تعلق رکھتے ہیں۔
الزام ہے کہ ان طلبہ نے مبینہ طور پر عہدیداروں کو رشوت دے کر جعلی ایس ٹی سرٹیفکیٹس حاصل کیے اور انہیں تلنگانہ میں ایم بی بی ایس کی ریزرویشن نشستوں کے لیے درخواست دیتے وقت استعمال کیا۔
یونیورسٹی کی جانچ کے دوران مجموعی طور پر 37 طلبہ کے سرٹیفکیٹس پر سوالات اٹھے ہیں۔ ان میں سے 9 طلبہ کو پہلے ہی ایم بی بی ایس کی نشستیں الاٹ کی جاچکی تھیں۔
حکام نے اعلان کیا ہے کہ جعلی ایس ٹی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر الاٹ کی گئی ان 9 طلبہ کی نشستیں بھی منسوخ کی جائیں گی۔
متعلقہ حکام کی جانب سے سرٹیفکیٹس کی مزید جانچ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر جعلی سرٹیفکیٹس جاری کرنے میں کون سے عہدیدار ملوث تھے۔
اس معاملے میں طلبہ اور متعلقہ عہدیداروں کے خلاف مزید کارروائی سے متعلق تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔