دہلی

’7 روپے فی کلو‘، سوشل میڈیا پر تربوز کی قیمت کیوں ٹرینڈ کر رہی ہے، اس کا ایران جنگ سے کیا تعلق؟

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کو ہونے والی برآمدات متاثر، بڑی مقدار میں تربوز مقامی بازاروں میں پہنچنے سے قیمتوں میں نمایاں کمی

نئی دہلی: سوشل میڈیا پر ان دنوں ’7 روپے فی کلو تربوز‘ کا موضوع تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق حالات بتائے جا رہے ہیں، جس کے باعث خلیجی ممالک کو ہونے والی ہندوستانی پھلوں کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ نتیجتاً جو تربوز بیرونِ ملک بھیجے جانے تھے وہ اب مقامی بازاروں میں فروخت ہورہے ہیں، جس سے قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

Watermelon Price in India: رپورٹس کے مطابق ماہِ رمضان کے دوران ہندوستان سے بڑی مقدار میں تربوز اور خربوزہ خلیجی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور عمان میں رمضان کے موقع پر ان پھلوں کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم جنگی حالات کے سبب اس مرتبہ برآمدات میں واضح کمی آگئی ہے۔

برآمدات رکنے کے بعد جو مال خلیجی ممالک کو بھیجا جانا تھا وہ انڈیا کے اندرونی بازاروں میں ہی پہنچ رہا ہے۔ ایک ساتھ بڑی مقدار میں پھل آنے سے سپلائی بڑھ گئی ہے جس کے باعث کئی مقامات پر تربوز کی قیمتیں کم ہو کر تقریباً 6 سے 7 روپے فی کلو تک بتائی جارہی ہیں۔

دہلی کی مشہور آزادپور منڈی میں بھی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فروری میں تربوز کی قیمت تقریباً 3,275 روپے فی کوئنٹل تھی جو مارچ میں کم ہو کر 2,301 روپے فی کوئنٹل رہ گئی، یعنی ایک ماہ میں تقریباً 29 فیصد کمی درج کی گئی۔

دوسری جانب آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارمز پر قیمتیں اب بھی زیادہ ہیں۔ دہلی اور بنگلورو میں Blinkit اور Swiggy Instamart جیسے کوئک کامرس ایپس پر تربوز کی قیمت دہلی میں تقریباً 100 روپے فی کلو اور بنگلورو میں تقریباً 80 روپے فی کلو بتائی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ مقامی منڈیوں میں تربوز کی قیمت غیر معمولی حد تک گر گئی ہے۔ بعض زرعی ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کو جانے والی کھیپ رکنے کی وجہ سے مقامی بازاروں میں اچانک زیادہ سپلائی آگئی ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔