حیدرآباد

موسی ندی کے غریب عوام کو ہٹانے کیلئے کانگریس نے چلی ایک نئی چال؟

کانگریس حکومت نے ایک ظالمانہ اقدام کرتے ہوئے حیدرآباد کے عثمان ساگر اور حمایت ساگر آبی ذخائر کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نیچے کی جانب پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے اور موسی ندی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حیدرآباد: ریونت ریڈی کی حکومت موسی ندی کے کیچمنٹ علاقہ میں رہنے والے غریب لوگوں کے ساتھ ظلم کر رہی ہے۔ متاثرہ افراد خوف کی حالت میں ہیں، عوام کی راتوں کی نیند اُڑ گئی ہے کہ کہیں بلڈوزر اُن کے گھر نہ گرا دے۔ کچھ علاقوں میں، موسی ندی کے متاثرین کو زبردستی بھگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے گھروں کو بے رحمی سے مسمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
قبائلی و اقلیتی پسماندگی پر توجہ دینے حکومت کی ضرورت: پروفیسر گھنٹا چکراپانی
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع

بہت سے لوگ اب اپنے گھروں کو خالی کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اور کچھ کا کہنا ہے کہ "مر جائیں گے، لیکن یہاں سے نہیں ہٹیں گے”۔ اس صورتحال کے پس منظر میں، حکومت نے ایک اور چال چلی ہے۔

 کانگریس حکومت نے ایک ظالمانہ اقدام کرتے ہوئے حیدرآباد کے عثمان ساگر اور حمایت ساگر آبی ذخائر کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نیچے کی جانب پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے اور موسی ندی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حال ہی میں ہونے والی بارشوں کے باعث، یہ دونوں جڑواں آبی ذخائر کی سطح مکمل ہوچکی تھی تب عہدیداروں کی جانب سے صرف ایک یا دو گیٹ کھولے گئے تھے لیکن اب پانچ یا چھ گیٹ اٹھا کر پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

 یہ اقدامات حکومت کی جانب سے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جس کے نتیجے میں موسی ندی کی کیچمنٹ علاقوں کے لوگ کانگریس حکومت سے سخت ناراض ہیں۔