حیدرآباد

موسی ندی کے غریب عوام کو ہٹانے کیلئے کانگریس نے چلی ایک نئی چال؟

کانگریس حکومت نے ایک ظالمانہ اقدام کرتے ہوئے حیدرآباد کے عثمان ساگر اور حمایت ساگر آبی ذخائر کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نیچے کی جانب پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے اور موسی ندی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حیدرآباد: ریونت ریڈی کی حکومت موسی ندی کے کیچمنٹ علاقہ میں رہنے والے غریب لوگوں کے ساتھ ظلم کر رہی ہے۔ متاثرہ افراد خوف کی حالت میں ہیں، عوام کی راتوں کی نیند اُڑ گئی ہے کہ کہیں بلڈوزر اُن کے گھر نہ گرا دے۔ کچھ علاقوں میں، موسی ندی کے متاثرین کو زبردستی بھگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے گھروں کو بے رحمی سے مسمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
قبائلی و اقلیتی پسماندگی پر توجہ دینے حکومت کی ضرورت: پروفیسر گھنٹا چکراپانی
جماعت اسلامی ہند کا "احترام انسانیت” مہم کا اختتامی جلسہ حیدرآباد میں
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ
کمشنرحیدرا نے میڈارم جاترا میں درشن کئے
محبت کی سرزمین ہندوستان، ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ کے زیر اہتمام شاندار جشنِ یومِ جمہوریہ

بہت سے لوگ اب اپنے گھروں کو خالی کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اور کچھ کا کہنا ہے کہ "مر جائیں گے، لیکن یہاں سے نہیں ہٹیں گے”۔ اس صورتحال کے پس منظر میں، حکومت نے ایک اور چال چلی ہے۔

 کانگریس حکومت نے ایک ظالمانہ اقدام کرتے ہوئے حیدرآباد کے عثمان ساگر اور حمایت ساگر آبی ذخائر کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نیچے کی جانب پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے اور موسی ندی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حال ہی میں ہونے والی بارشوں کے باعث، یہ دونوں جڑواں آبی ذخائر کی سطح مکمل ہوچکی تھی تب عہدیداروں کی جانب سے صرف ایک یا دو گیٹ کھولے گئے تھے لیکن اب پانچ یا چھ گیٹ اٹھا کر پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

 یہ اقدامات حکومت کی جانب سے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جس کے نتیجے میں موسی ندی کی کیچمنٹ علاقوں کے لوگ کانگریس حکومت سے سخت ناراض ہیں۔