حیدرآباد

بلدی عہدیداروں کے خلاف تقریبا100طلبہ کا احتجاج

حیدرآباد کے اپل علاقہ کے ایک سو سے زیادہ طلبہ نے کام کرنے کے بعداجرت نہ دینے پر بلدی عہدیداروں کے خلاف احتجاج کیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے اپل علاقہ کے ایک سو سے زیادہ طلبہ نے کام کرنے کے بعداجرت نہ دینے پر بلدی عہدیداروں کے خلاف احتجاج کیا۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد

بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں ریاستی حکومت نے 6 ضمانتوں پر عمل کے لئے عوام سے درخواست فارم وصول کی تھی ان درخواست فارمس کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ڈیٹا انٹری آپریٹرس کی خدمات حاصل کی گئیں۔

اس سلسلہ میں بلدی حکام نے اپل جی ایچ ایم سی کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے مختلف کالجوں کے 130 طلبہ کی خدمات حاصل کیں اور انھیں اجرت دینے کا وعدہ کیا لیکن، ان تمام کو ابھی تک متعلقہ عہدیداروں نے رقم ادا نہیں کی۔

اس پر ان طلبہ نے اجرت حاصل کرنے کئی مرتبہ جی ایچ ایم سی دفتر کے چکر لگائے اور اجرت دینے کی درخواست کی لیکن عہدیداروں نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ جس پر آج اپل جی ایچ ایم سی دفتر کے سامنے ان طلبہ نے دھرنا دیا۔