حیدرآباد

بلدی عہدیداروں کے خلاف تقریبا100طلبہ کا احتجاج

حیدرآباد کے اپل علاقہ کے ایک سو سے زیادہ طلبہ نے کام کرنے کے بعداجرت نہ دینے پر بلدی عہدیداروں کے خلاف احتجاج کیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے اپل علاقہ کے ایک سو سے زیادہ طلبہ نے کام کرنے کے بعداجرت نہ دینے پر بلدی عہدیداروں کے خلاف احتجاج کیا۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں ریاستی حکومت نے 6 ضمانتوں پر عمل کے لئے عوام سے درخواست فارم وصول کی تھی ان درخواست فارمس کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ڈیٹا انٹری آپریٹرس کی خدمات حاصل کی گئیں۔

اس سلسلہ میں بلدی حکام نے اپل جی ایچ ایم سی کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے مختلف کالجوں کے 130 طلبہ کی خدمات حاصل کیں اور انھیں اجرت دینے کا وعدہ کیا لیکن، ان تمام کو ابھی تک متعلقہ عہدیداروں نے رقم ادا نہیں کی۔

اس پر ان طلبہ نے اجرت حاصل کرنے کئی مرتبہ جی ایچ ایم سی دفتر کے چکر لگائے اور اجرت دینے کی درخواست کی لیکن عہدیداروں نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ جس پر آج اپل جی ایچ ایم سی دفتر کے سامنے ان طلبہ نے دھرنا دیا۔