شمالی بھارت

اجے رائے نے استاد بسم اللہ خان کو 110ویں جینتی پر خراج عقیدت پیش کیا

ان کی شہنائی کی دھن صرف موسیقی ہی نہیں تھیں بلکہ محبت، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام تھی

وارانسی  :  کاشی کی ثقافتی وراثت کی علامت اور بھارت رتن ایوارڈ یافتہ استاد بسم اللہ خان کو ان کے 110 ویں یوم پیدائش پر ہفتہ کے روز سگرا درگاہ میں دلی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
دلتوں کی چیخیں بھی حکومت بہار کو گہری نیند سے جگانے میں ناکام رہیں: راہول
آندھرا پردیش میں بابائے قوم کو خراج
ہندو لوگ صرف 3 مقامات مانگ رہے ہیں:یوگی
گاندھی جی کو کے سی آر کا خراج
15 فیصد مسلم ریزرویشن سے متعلق کانگریس پر جھوٹا الزام : پی چدمبرم

اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے درگاہ کا دورہ کیا، ان کی قبر پر پھول چڑھا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا، اور ان کی منفرد شراکت کو یاد کیا۔

مسٹر اجے رائے نے کہا کہ استاد بسم اللہ خان بنارس کی شناخت اور گنگا جمنی ثقافت کی زندہ علامت تھے۔ ان کی شہنائی کی سریلی دھن سے بنارس کو عالمی سطح پر خاص مقام ملا۔

 انہوں نے کہا کہ استاد کا گنگا اور کاشی سے گہرا روحانی تعلق تھا اور وہ اکثر گھاٹوں پر مشق کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ استاد بسم اللہ خان کی زندگی سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی اتحاد کی مثال ہے۔ انہیں ہولی اور عید دونوں سے یکساں محبت تھی اور تمام مذاہب کا احترام کرتے تھے۔

ان کی شہنائی کی دھن صرف موسیقی ہی نہیں تھیں بلکہ محبت، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام تھی۔

مسٹر اجے رائے نے کہا کہ استاد نے اپنے فن اور عقیدت کے ذریعے ہندوستانی ثقافت اور کاشی کی روایات کو عالمی پہچان دلائی۔ ان کی زندگی معاشرے میں اتحاد، ہم آہنگی اور ثقافتی وراثت کے تحفظ کی تحریک کا باعث ہے۔