حیدرآباد

حیدرآباد میں کل ہند صنعتی نمائش کا اختتام۔23لاکھ سے زائد افراد نے مشاہدہ کیا

یکم جنوری کو نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا کے ہاتھوں اس کا افتتاح ہوا تھا جس نے اس سال مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ نمائش سوسائٹی کے مطابق اس سال ریکارڈ 23 لاکھ 25 ہزار افراد نے نمائش کو دیکھا جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں مسلسل 46 دنوں تک جاری رہنے والی 85 ویں کل ہند صنعتی نمائش اختتام پذیر ہوگئی۔

متعلقہ خبریں
کل ہند صنعتی نمائش، ٹرافک تحدیدات
امریکہ اور جاپان کے دورہ سے ڈپٹی چیف منسٹر کی واپسی
تربیت، تفریح اور تخلیق کا حسین امتزاج،عیدگاہ اجالے شاہ سعیدآباد پر سی آئی او کے رنگا رنگ چلڈرن فیسٹیول کا انعقاد
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
ماہ رمضان المبارک کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے!، گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کواَن انسٹال کریں: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی

یکم جنوری کو نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا کے ہاتھوں اس کا افتتاح ہوا تھا جس نے اس سال مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ نمائش سوسائٹی کے مطابق اس سال ریکارڈ 23 لاکھ 25 ہزار افراد نے نمائش کو دیکھا جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


اختتامی تقریب میں چیئرمین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور نمائش کے کامیاب انعقاد کی ستائش کی۔

اتوار کی رات نمائش کا باقاعدہ وقت ختم ہوتے ہی مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے اسٹال ہولڈرس نے اپنا سامان سمیٹنا اور پیک کرنا شروع کر دیا۔ سوسائٹی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ آج (پیر) سے عام شائقین کے لئے میدان میں داخلہ بند رہے گا اور صرف تاجروں کو اپنا سامان منتقل کرنے کی اجازت ہوگی۔


اس سال نمائش میں ملک بھر سے تقریباً 2,400 اسٹالس لگائے گئے تھے جہاں دستکاری، ملبوسات اور مختلف ریاستوں کے روایتی پکوانوں نے شہریوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ سوسائٹی کے عہدیداروں نے بتایا کہ نمائش سے حاصل ہونے والی آمدنی کو سوسائٹی کے زیرِ انتظام چلنے والے 18 تعلیمی اداروں کی ترقی اور غریب طلبہ کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔

پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات اور میٹرو ریل کی اضافی سہولتوں کے باعث لاکھوں کی تعداد میں آنے والے افرادکو کسی بڑی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔