قومی

نمازیوں کی تعداد محدود کرنے پر حکام پر ہائی کورٹ برہم

عدالت کا ریمارک: اگر حکام نظم و ضبط برقرار نہیں رکھ سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں یا تبادلہ کرالیں، ہر فرقہ کو عبادت کی پرامن ادائیگی کا حق حاصل ہے۔

پریاگ راج (آئی اے این ایس) الٰہ آباد ہائی کورٹ نے رمضان کے دوران ضلع سنبھل میں نمازیوں کی تعداد محدود کردینے پر اترپردیش کے حکام پر جم کر تنقید کی۔ اس نے ریمارک کیا کہ اگر عہدیداروں کو ایسا لگتا ہے کہ وہ نظم وضبط برقرار رکھنے کے اہل نہیں ہیں تو انہیں یا تو اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے یا تبادلہ کرالینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں
سنبھل جامع مسجد کی آہک پاشی میں کیا برائی ہے؟: الٰہ آباد ہائی کورٹ
یوپی پولیس کیلئے لا اینڈ آرڈر مذاق بن کر رہ گیا: پرینکا گاندھی
اعظم خان کی وائی زمرہ سیکوریٹی واپس لے لی گئی
مشین چوری کیس، اعظم خان اور بیٹے کی درخواست ضمانت مسترد
سلطان پور کے رکن پارلیمنٹ کے انتخاب کے خلاف مینکاگاندھی سپریم کورٹ سے رجوع

جسٹس اتل سریدھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن کی ڈیویژن بنچ نے مناظر خان نامی شخص کی رٹ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ مناظر خان نے الزام عائد کیا تھا کہ حکام ایک اراضی پر جہاں مسجد ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے‘ لوگوں کو نماز کی ادائیگی سے روک رہے ہیں۔

مقامی نظم ونسق نے صرف 20 افراد کو نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے حالانکہ رمضان میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ حکومت اترپردیش نے تاہم درخواست گزار کے مسجد کی موجودگی کے دعویٰ سے اختلاف کیا اور کہا کہ جس اراضی کی بات ہورہی ہے وہ مال گزاری(ریونیو) ریکارڈس میں موہن سنگھ اور بھورج سنگھ کے نام پر درج ہے جو سکھی سنگھ کے بیٹے ہیں۔ نمازیوں کی تعداد نظم وضبط کے اندیشہ کے تحت محدود کی گئی ہے۔

جسٹس سریدھرن کی بنچ نے اس جواز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نظم وضبط کی برقراری ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے عبادت پر بندش کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں قانون کی حکمرانی یقینی بنائے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مقامی نظم و نسق کے خلاف سخت ریمارکس کئے اور کہا کہ صورتِ حال سے نمٹنے کے اہل نہ ہونے پر عہدیداروں کو ہٹ جانا چاہئے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس اور کلکٹر کو ایسا لگتا ہو کہ نظم وضبط کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے وہ نمازیوں کی تعداد محدود کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یا تو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دینا چاہئے یا سنبھل سے باہر تبادلہ کرالینا چاہئے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے زور دے کر کہا کہ ہر فرقہ کو مقام ِ عبادت پر عبادت کی پرامن ادائیگی کا حق حاصل ہے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ ہر فرقہ عبادت کیلئے مختص مقام پر ایسا کرسکے۔ اگر خانگی جائیداد ہے تو وہاں عبادت کے لئے اجازت ضروری نہیں۔ اگلی سماعت 16 مارچ کو ہوگی۔ دوران ِ سماعت ہائی کورٹ نے اس بات کا نوٹ لیا کہ درخواست گزار نے مسجد کی موجودگی ثابت کرنے کے لئے تصاویر یا دوسرا مواد داخل نہیں کیا۔

بنچ نے فریقین کو مہلت دی۔ اس نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ تصاویر اور متعلقہ ریونیو ریکارڈ کے ساتھ ضمنی حلف نامہ داخل کرے۔

پی ٹی آئی کے بموجب الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ضلع سنبھل کی ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کردینے کے حکومت ِ اترپردیش کے حکم کو مسترد کردیا۔ اس نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور کلکٹر کو اگر یہ احساس ہوتا ہو کہ وہ قانون کی حکمرانی نافذ کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں یا تو مستعفی ہوجانا چاہئے یا اپنا تبادلہ کرالینا چاہئے۔