حیدرآباد

لنگر حوض میں فنانس کمپنی کے نام پر گاڑیاں روکنے کا الزام، وائرل ویڈیو سے ہلچل

تاہم ایک ہونڈا ایکٹیوا کے مالک نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی گاڑی مکمل رقم ادا کرکے خریدی ہے۔ اس کے مطابق گاڑی کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (RC) میں بھی سب کچھ واضح ہے اور اس پر کسی قسم کا قرض یا بقایا رقم نہیں ہے۔

حیدرآباد: شہر کے لنگر حوض علاقے میں کچھ افراد کی جانب سے خود کو فنانس کمپنی کا ریکوری عملہ ظاہر کرتے ہوئے گاڑیوں کو روکنے اور ضبط کرنے کی دھمکیاں دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

وائرل ویڈیو میں کیے گئے دعووں کے مطابق، چند افراد دو پہیہ گاڑیوں کو روک کر یہ کہتے ہوئے انہیں اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ گاڑیاں فنانس یا قرض پر لی گئی ہیں اور ان کی قسطیں ادا نہیں کی گئیں۔

تاہم ایک ہونڈا ایکٹیوا کے مالک نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی گاڑی مکمل رقم ادا کرکے خریدی ہے۔ اس کے مطابق گاڑی کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (RC) میں بھی سب کچھ واضح ہے اور اس پر کسی قسم کا قرض یا بقایا رقم نہیں ہے۔

شکایت کرنے والوں کا الزام ہے کہ گاڑیاں روکنے والے افراد کے پاس نہ تو کسی فنانس کمپنی کے سرکاری شناختی کارڈ تھے، نہ ہی گاڑیوں کی جانچ یا ضبطی کے لیے کوئی قانونی اجازت نامہ موجود تھا۔ مزید یہ کہ جن گاڑیوں میں وہ آئے تھے، ان پر بھی مبینہ طور پر درست نمبر پلیٹیں موجود نہیں تھیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لنگر حوض میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جہاں بعض افراد مبینہ طور پر فنانس کمپنی کے نام پر گاڑی مالکان کو ہراساں کرتے رہے ہیں۔

تاہم اس واقعے کے حوالے سے تاحال پولیس یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جبکہ وائرل ویڈیو میں کیے گئے دعووں کی بھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔