دریائے گنگا میں چکن کھانا کوئی جرم نہیں ،مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر سپریم کورٹ کے جج کا اظہارِ تشویش
بھوپال کی نیشنل لا انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی (NLIU) میں منعقدہ جسٹس جی پی سنگھ چوتھی یادگاری لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے گنگا ندی میں کشتی پر رمضان کے دوران افطار کرتے ہوئے چکن بریانی کھانے کے الزام میں گرفتار کیے گئے 14 مسلم نوجوانوں کے مقدمے کا حوالہ دیا۔
حیدرآباد/بھوپال: سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجّل بھویان نے کہا ہے کہ ملک میں اختلافِ رائے کے اظہار کی گنجائش بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ بعض معمول کی اور قانونی سرگرمیوں کو بھی مجرمانہ رنگ دیا جا رہا ہے، جو جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
بھوپال کی نیشنل لا انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی (NLIU) میں منعقدہ جسٹس جی پی سنگھ چوتھی یادگاری لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے گنگا ندی میں کشتی پر رمضان کے دوران افطار کرتے ہوئے چکن بریانی کھانے کے الزام میں گرفتار کیے گئے 14 مسلم نوجوانوں کے مقدمے کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا، "چکن بریانی کھانا کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی قانون موجود ہے جو دریائے گنگا پر چکن کھانے سے روکتا ہو۔ اس کے باوجود ان نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں تقریباً تین ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔”
جسٹس بھویان نے کہا کہ ایسے واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پرامن احتجاج یا اختلافِ رائے سے متعلق مقدمات میں شہریوں کو عدالتوں سے بروقت انصاف کیوں نہیں مل پاتا۔ ان کے مطابق اگرچہ عدالتیں اکثر ضمانت یا دیگر قانونی ریلیف فراہم کرتی ہیں، لیکن کئی مواقع پر یہ ریلیف تاخیر سے ملتا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض مقدمات میں ضمانت دیتے وقت ایسی سخت شرائط عائد کی جاتی ہیں، جن کے تحت ملزمان کو عوامی اجتماعات میں شرکت، سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال یا ملک سے باہر سفر کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی شرائط بعض اوقات شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
جسٹس بھویان نے زور دے کر کہا کہ اختلافِ رائے کا اظہار اور پُرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ ان کے بقول بحث، مکالمہ اور اختلاف ہی جمہوریت کی اصل روح ہیں، لیکن اگر معمول کی سرگرمیوں کو بھی جرم کا رنگ دیا جائے تو یہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات اس بات پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں کہ آیا سخت ضمانتی شرائط کے ذریعے بالواسطہ طور پر شہریوں کو اختلافِ رائے کے اظہار سے باز رہنے کا پیغام تو نہیں دیا جا رہا۔