غزہ کیلیے پہلے سے بڑا فلوٹیلا لے جانے کا اعلان
گزشتہ سال غزہ کیلیے امداد لے جانے کی کوشش کے دوران اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال ہونے والے فلوٹیلا کے منتظمین اس سال دوبارہ کوشش کریں گے، مگر اس بار وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ کشتیاں لے جانے کی تیاری میں ہیں جن میں 1000 تک طبی عملہ سوار ہوگا۔
غزہ: سماجی کارکنوں نے اسرائیلی محاصرہ توڑنے کیلیے پہلے سے بڑا فلوٹیلا غزہ کی طرف لے جانے کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔
گزشتہ سال غزہ کیلیے امداد لے جانے کی کوشش کے دوران اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال ہونے والے فلوٹیلا کے منتظمین اس سال دوبارہ کوشش کریں گے، مگر اس بار وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ کشتیاں لے جانے کی تیاری میں ہیں جن میں 1000 تک طبی عملہ سوار ہوگا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیلی فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی تقریباً 40 کشتیوں کو اس وقت روک لیا تھا جب وہ غزہ پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ کارروائی کے دوران سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ اور 450 سے زائد دیگر شرکا کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
تاہم آج فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا کہ وہ اپنی اگلی کوشش کیلیے 100 کشتیاں لانے کی امید رکھتے ہیں۔
نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا بھی اس میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ان لوگوں کا مقصد ہے جو اٹھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں اور سب کیلیے انصاف اور وقار کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم عالمی برادری کو متحرک کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ اپنی قوتیں یکجا کریں۔
اسرائیل غزہ کی پٹی تک رسائی کے تمام راستوں کو کنٹرول کرتا ہے اور ان الزامات کی بھی تردید کرتا ہے کہ وہ وہاں کے 20 لاکھ سے زائد رہائشیوں کیلیے سپلائی روک رہا ہے۔
دوسری جانب، فلسطینیوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ پہنچنے والی امداد اب بھی ناکافی ہے۔
فلوٹیلا کے سماجی کارکنوں نے کہا کہ اگر بحری بیڑے کو دوبارہ روکا گیا تب بھی غزہ کی حالت زار کو اجاگر کرنے کیلیے یہ کوشش فائدہ مند ہوگی۔