اے پی: ماہی گیر کے جال میں 24 کلو وزنی دیو قامت مچھلی پھنس گئی
عام طور پر تالابوں میں پالی جانے والی پنڈو گپا مچھلی زیادہ سے زیادہ 6 کلو تک وزنی ہوتی ہے لیکن ندی کی مچھلی ہونے کی وجہ سے اس کا وزن 24 کلو تک پہنچ گیا جسے مارکٹ میں 16 ہزار روپے میں فروخت کیا گیا۔
حیدرآباد: اے پی کے مشرقی گوداوری ضلع سے متصل یانم کے قریب دریائے گوداوری میں ایک ماہی گیر کے جال میں 24 کلو وزنی دیو قامت مچھلی پھنس گئی جسے دیکھنے کے لئے مقامی افرادکا تانتابندھ گیا۔
امبیڈکر کوناسیما اور کاکناڈا اضلاع کے سرحدی علاقہ کے پاس پکڑی گئی اس مچھلی کے بارے میں مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصہ میں اتنی بڑی مچھلی نہیں دیکھی گئی۔
عام طور پر تالابوں میں پالی جانے والی پنڈو گپا مچھلی زیادہ سے زیادہ 6 کلو تک وزنی ہوتی ہے لیکن ندی کی مچھلی ہونے کی وجہ سے اس کا وزن 24 کلو تک پہنچ گیا جسے مارکٹ میں 16 ہزار روپے میں فروخت کیا گیا۔
یانم کے محکمہ سمکیات کے اے ڈی دادالا گونتیا کے مطابق پنڈو گپا مچھلی پروٹین اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتی ہے جو دماغی و قلبی صحت اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے انتہائی مفید ہے۔
اس مچھلی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سمندر کے کھارے پانی اور ندی کے میٹھے پانی، دونوں جگہ نشوونما پاتی ہے۔ مچھلیوں کے شوقین افراد کے لئے یہ مچھلی پلسا کے بعد سب سے پسندیدہ انتخاب سمجھی جاتی ہے۔
گوشت خور افراد کا کہنا ہے کہ پنڈو گپا کا ذائقہ بالکل چکن جیسا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے لوگ اسے دوسرے اضلاع اور ریاستوں میں مقیم اپنے رشتہ داروں کو تحفہ کے طور پر بھی بھیجتے ہیں۔