آندھراپردیش

اے پی: اسکرب ٹائفس سے مرنے والوں کی تعداد 20 ہوگئی

حال ہی میں ضلع باپٹلہ کے پیڈا پلوگو واری پالم سے تعلق رکھنے والے ناگا بابو نامی نوجوان کی اس بیماری سے موت نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ نوجوان گزشتہ چند دنوں سے بخار میں مبتلا تھا جسے علاج کے لئے گنٹور کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ٹسٹ کے بعد اس میں اسکرب ٹائفس کی تصدیق ہوئی۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش میں اسکرب ٹائفس نامی بیماری کے متاثرین میں اضافہ نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی
سمہا چلم اپنا سوامی مندر میں دیوار گرنے کا واقعہ، سافٹ ویر انجینئر جواڑا سمیت 8 افراد ہلاک


حال ہی میں ضلع باپٹلہ کے پیڈا پلوگو واری پالم سے تعلق رکھنے والے ناگا بابو نامی نوجوان کی اس بیماری سے موت نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ نوجوان گزشتہ چند دنوں سے بخار میں مبتلا تھا جسے علاج کے لئے گنٹور کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ٹسٹ کے بعد اس میں اسکرب ٹائفس کی تصدیق ہوئی۔


دورانِ علاج حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی جس کے بعد ریاست میں اس مرض سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 20 تک پہنچ گئی تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حالیہ اموات کی وجہ صرف اسکرب ٹائفس ہی نہیں بلکہ دیگر دائمی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں جس کی اصل وجوہات جاننے کے لیے حکومت جینوم سیکوینسنگ کا سہارا لے رہی ہے۔


محکمہ صحت نے صورتحال کے پیش نظر ریاست بھر میں بیداری مہم شروع کر دی ہے اور اسپتالوں میں ادویات کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔ طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بخار کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں اور چونکہ یہ بیماری چِگر مائٹس (ایک قسم کے کیڑے) کے کاٹنے سے پھیلتی ہے اس لئے کھیتوں اور سبزہ زاروں میں کام کرنے والے افراد کو خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔