سوشیل میڈیابھارت

کیا آپ بھی روم ہیٹر استعمال کر رہے ہیں؟ یہ حفاظتی تدابیر نہ اپنائیں تو جان بھی جاسکتی ہے!

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی کے باعث لوگ رات کے وقت دروازے اور کھڑکیاں مکمل طور پر بند کر کے ہیٹر چلاتے ہیں، جو سب سے بڑی غلطی ہے۔ اس طرح کمرے میں تازہ ہوا کا داخلہ رک جاتا ہے اور زہریلی گیس باہر نہیں نکل پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں روم ہیٹرز کے باعث اموات کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

حیدرآباد: ملک بھر میں سردی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ گھروں میں خود کو گرم رکھنے کے لیے روم ہیٹرز کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین اور طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روم ہیٹرز کا غلط اور غیر محتاط استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے کئی افسوسناک واقعات نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔

حال ہی میں پنجاب کے ضلع ترن تارن میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک نوجوان میاں بیوی اور ان کا چند ماہ کا معصوم بچہ کمرے میں مردہ پائے گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ المناک حادثہ روم ہیٹر کے استعمال کے دوران زہریلی گیس کے اخراج کے باعث پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمرہ مکمل طور پر بند تھا، جس کے باعث اندر آکسیجن کی مقدار کم ہو گئی اور کاربن مونو آکسائیڈ جمع ہو گئی، جو موت کا سبب بنی۔

ماہرین کے مطابق روم ہیٹرز کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کاربن مونو آکسائیڈ جیسی خطرناک گیس خارج کرتے ہیں۔ یہ گیس نہ رنگ رکھتی ہے، نہ بو اور نہ ہی ذائقہ، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کو اس کا بروقت احساس نہیں ہو پاتا۔ بند کمرے میں اس گیس کا ارتکاز چند ہی گھنٹوں میں خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے، جس سے سر درد، متلی، قے، چکر آنا اور بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعض اوقات انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی کے باعث لوگ رات کے وقت دروازے اور کھڑکیاں مکمل طور پر بند کر کے ہیٹر چلاتے ہیں، جو سب سے بڑی غلطی ہے۔ اس طرح کمرے میں تازہ ہوا کا داخلہ رک جاتا ہے اور زہریلی گیس باہر نہیں نکل پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں روم ہیٹرز کے باعث اموات کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ روم ہیٹر استعمال کرتے وقت احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ کمرے میں ہوا کی آمد و رفت کا مناسب انتظام رکھا جائے، سوتے وقت ہیٹر بند کر دیا جائے اور گیس یا کوئلے سے چلنے والے ہیٹر بند کمروں میں استعمال نہ کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معمولی سی احتیاط قیمتی جانوں کو بچا سکتی ہے۔

شمالی اور دیگر سرد علاقوں میں درجہ حرارت مزید گرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ہیٹرز کے استعمال میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ایسے میں شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ سردی سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دیں، کیونکہ ایک لمحے کی غفلت ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔