18,000 روپے ماہانہ تنخواہ کے مطالبے پر آشا ورکرز کا احتجاجی مظاہرہ
مظاہرین کے مطابق، ان کا بنیادی مطالبہ 18,000 روپے ماہانہ تنخواہ طے کرنا ہے، کیونکہ موجودہ اعزازیہ ان کی گزر بسر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ وہ موجودہ بجٹ سیشن کے دوران حکومت سے اس سلسلے میں واضح اعلان کی توقع کر رہی ہیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کی آشا ورکرز نے ہفتے کے روز اپنے دیرینہ مطالبات اور 18,000 روپے ماہانہ مقررہ تنخواہ کے حق میں احتجاجی مظاہرے کی کال دی، جس کے دوران پولیس نے کئی آشا ورکرز کو حراست میں لے لیا۔
مظاہرین کے مطابق، ان کا بنیادی مطالبہ 18,000 روپے ماہانہ تنخواہ طے کرنا ہے، کیونکہ موجودہ اعزازیہ ان کی گزر بسر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ وہ موجودہ بجٹ سیشن کے دوران حکومت سے اس سلسلے میں واضح اعلان کی توقع کر رہی ہیں۔
سی پی آئی (ایم) کے سابق ایم ایل اے جلکانتی رنگا ریڈی نے ایک بیان میں کہا کہ زیر التواء یقین دہانیوں پر حکومتی سستی کی وجہ سے احتجاج میں شدت آئی ہے اور حکومت احتجاج کی اجازت نہ دے کر تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مظاہرین نے اعزازیہ کی ادائیگی میں تاخیر کا مسئلہ بھی اٹھایا اور بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے سروے، پولیو مہم، انتخابی ڈیوٹی اور امتحانی کاموں سے متعلق ادائیگیاں بھی زیر التواء ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مرکزی حکومت سے ملنے والی 1,500 روپے فی ورکر کی رقم بھی تقسیم نہیں کی گئی، جس سے انہیں سنگین مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان کی نقل و حمل پر لگی پابندیاں ختم کرے، وقت پر اعزازیہ کو یقینی بنائے اور تمام بقایا جات کی فوری ادائیگی کرے۔