حیدرآباد

رکن اسمبلی گدوال کرشنا موہن ریڈی کا انتخاب کالعدم

کرشنا موہن ریڈی پر 3لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیاگیا۔2018ء کے انتخابات میں کرشنا موہن ریڈی کے مقابل میں دوسرے مقام پر رہی بی جے پی قائد ڈی کے ارونا کو رکن اسمبلی قراردیاگیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ ہائی کورٹ نے حکمراں جماعت بی آرایس کے ایک اور رکن اسمبلی کو نااہل قراردیا ہے۔ عدالت نے آج گدوال کے رکن اسمبلی کرشنا موہن ریڈی کو غلط حلفنامہ داخل کرنے کا مرتکب قراردیتے ہوئے انہیں رکنیت اسمبلی کیلئے نااہل قراردیا۔

متعلقہ خبریں
این آئی اے پر ہائی کورٹ ڈیویژن بنچ کی تنقید
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد

 کرشنا موہن ریڈی پر 3لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیاگیا۔2018ء کے انتخابات میں کرشنا موہن ریڈی کے مقابل میں دوسرے مقام پر رہی بی جے پی قائد ڈی کے ارونا کو رکن اسمبلی قراردیاگیا۔

 یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ڈی کے ارونا نے کرشنا موہن ریڈی کی جانب سے داخل کردہ حلفنامہ کوغلطیوں کا پلندہ قراردیتے ہوئے غلط حلفنامہ داخل کرنے کی پاداش میں ریڈی کو رکنیت اسمبلی سے نااہل قراردینے کی اپیل کی تھی۔

 عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل کی سماعت کے بعد کرشنا موہن ریڈی کو غلطی کا مرتکب  قراردیتے ہوئے انہیں اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قراردیا۔