حیدرآباد

این آئی اے پر ہائی کورٹ ڈیویژن بنچ کی تنقید

تلنگانہ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے جس میں جسٹس موشومی بھٹاچاریہ اور جسٹس ناگیش بھیماپاکا شامل ہیں نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) پر اپنے مفادات کے لیے مختلف کورٹس کے سامنے متضاد موقف اختیار کرنے پر سخت نکتہ چینی کی۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے جس میں جسٹس موشومی بھٹاچاریہ اور جسٹس ناگیش بھیماپاکا شامل ہیں نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) پر اپنے مفادات کے لیے مختلف کورٹس کے سامنے متضاد موقف اختیار کرنے پر سخت نکتہ چینی کی۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ ہائی کورٹ نے دانم ناگیندر کو نوٹس جاری کی
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر

خصوصی عدالت کی طرف سے جاری کردہ احکامات کو چیلنج کرنے میں 390 دن کی تاخیر پر معافی کی درخواستوں پر بینچ پر سماعت کے دوران یہ فیصلہ آیا۔

عدالت نے ایس ایم کے پیش کردہ دلائل کا جائزہ لیا۔ اپیل کنندہ کے وکیل رضوان اختر اور این آئی اے کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر وشنو وردھن ریڈی نے این آئی اے ایکٹ کے سیکشن 21(5) کے تحت دائر اپیلوں پر حد بندی ایکٹ کی دفعہ 5 کے اطلاق کے بارے میں متعدد وضاحتوں اور ہائی کورٹس کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے بعد بنچ نے توثیق کی کہ سیکشن 5 واقعی لاگو ہے۔

ججوں نے این آئی اے کے ”متضاد مخالف موقف” کو نوٹ کیا، جس میں ایجنسی کے متضاد نقطہ نظر کو”فلپ فلاپ“ قرار دیا گیا۔