شمالی بھارت

ہائی کورٹ سے نتیش کمار حکومت کو بڑی راحت

ہائی کورٹ نے 4 مئی کو ذات پر مبنی مردم شماری پر پابندی لگا تے ہوئے اس وقت تک ہوئے سروے میں حاصل ڈیٹا کو ضائع نہ کرنے کا حکم دیا تھا اور سماعت کی اگلی تاریخ 3 جولائی مقرر کی تھی۔

پٹنہ: بہار حکومت کو پٹنہ ہائی کورٹ سے آج بڑی راحت ملی اور اب نتیش حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کا کام مکمل کرا سکے گی۔ پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس پارتھ سارتھی کی ڈویژن بنچ نے منگل کو ذات پر مبنی مردم شماری پر روک لگانے کی درخواست سے متعلق تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

متعلقہ خبریں
آر جے ڈی کے ساتھ اتحاد ایک غلطی تھی:نتیش کمار
ذات کے سروے کے خلاف فیصلہ پر التواء سے سپریم کورٹ کاانکار
وقت بدلتے دیر نہیں لگتی: نتیش کمار اور چندرابابونائیڈو کو کانگریس قائد کا انتباہ
بہار کو خصو صی موقف کے مطالبہ پر بحث تکرار
قومی سیاست میں نائیڈو کو بادشاہ گرکا کردار ادا کرنیکا پھر موقع

 اس معاملے پر17 اپریل کو پہلی بار سماعت ہوئی تھی۔ ہائی کورٹ نے 4 مئی کو ذات پر مبنی مردم شماری پر پابندی لگا تے ہوئے اس وقت تک ہوئے سروے میں حاصل ڈیٹا کو ضائع نہ کرنے کا حکم دیا تھا اور سماعت کی اگلی تاریخ 3 جولائی مقرر کی تھی۔ اس معاملے میں دونوں فریقوں کو مسلسل سننے کے بعد 7 جولائی کو سماعت مکمل ہوئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

درخواست گزار کی جانب سے دلیل دی گئی تھی کہ ریاستی حکومت سروے کے نام پر مردم شماری کرا رہی ہے جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

حکومت کی جانب سے اس گنتی کا مقصد ظاہر نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس حساس معلومات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ عوام کے پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہوگی۔

 ریاستی حکومت نے اس سروے کے لیے کنٹیجنسی فنڈ سے 500 کروڑ اس سروے کے لئے استعمال کیا ہے، جو عوام کے پیسے کا غلط استعمال ہے۔ آئین ریاستی حکومت کو ایسا سروے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔