بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی، کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم کا اتحاد، مہاراشٹر کی سیاست میں حیران کن موڑ
انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سخت حملے کرتی ہیں اور عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ پارٹیاں ایک دوسرے کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔
مہاراشٹر: انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سخت حملے کرتی ہیں اور عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ پارٹیاں ایک دوسرے کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔ الزامات، بیانات اور نعرے بازی سے ماحول گرم رکھا جاتا ہے، مگر جیسے ہی اقتدار کا سوال سامنے آتا ہے، سیاسی منظرنامہ یکسر بدل جاتا ہے۔ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست میں اصل فیصلے عوامی اسٹیج سے زیادہ پردے کے پیچھے ہوتے ہیں۔
آج کی سیاست میں نظریات کے بجائے اقتدار اور عددی طاقت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ جو جماعتیں کل تک ایک دوسرے کو سخت مخالف قرار دیتی تھیں، وہی آج اقتدار کے لیے ایک دوسرے کا سہارا لیتی نظر آ رہی ہیں۔ عوام کے سامنے لڑائی دکھائی جاتی ہے، مگر اقتدار کے وقت خاموش سمجھوتے ہو جاتے ہیں، اور یہی تصویر مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست میں صاف نظر آ رہی ہے۔
اکوت میونسپل کونسل میں پیش آنے والی سیاسی پیش رفت نے سب کو حیران کر دیا۔ 35 رکنی کونسل میں بی جے پی کو صرف 11 نشستیں حاصل ہوئیں، اس کے باوجود اکثریت حاصل کرنے کے لیے اکوت وکاس منچ کے نام سے نیا محاذ قائم کیا گیا۔ اس اتحاد کے ذریعے بی جے پی کی مایا دھولے کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ رہی کہ بی جے پی کی سخت مخالف سمجھی جانے والی جماعت اے آئی ایم آئی ایم کے پانچ کونسلرس نے بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کی حمایت کر دی، حالانکہ نظریاتی طور پر دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی ضد سمجھی جاتی ہیں۔
دوسری جانب امبرناتھ میونسپل کونسل میں بھی اقتدار کی بساط الٹ گئی۔ 60 رکنی ایوان میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی، جب کہ بی جے پی کو 14، کانگریس کو 12، این سی پی کو 4 نشستیں ملیں اور 3 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے باوجود بی جے پی نے کانگریس، این سی پی اور دو آزاد کونسلرس کے ساتھ اتحاد کر کے 32 نشستوں کی اکثریت حاصل کر لی اور صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا، جس کے نتیجے میں شیوسینا اقتدار سے باہر ہو گئی۔
بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے پر کانگریس نے اپنے 12 نومنتخب کونسلرس کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث اور قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی طرح سب کی نظریں اس بات پر بھی جمی ہوئی ہیں کہ اے آئی ایم آئی ایم اپنی جماعت کے ان کونسلرس کے خلاف کیا فیصلہ کرتی ہے جنہوں نے بی جے پی کی حمایت کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی سطح پر کانگریس کے خلاف سخت سیاسی نعرے دینے والی بی جے پی نے مقامی سطح پر اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کانگریس کی حمایت قبول کی۔ اس فیصلے کے بعد مہاراشٹر میں موجود سیاسی اتحادوں کے اندر بھی ناراضگی اور بے چینی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بلدیاتی سیاست میں اس طرح کے غیر فطری اور غیر متوقع اتحاد آئندہ بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں، جہاں نظریات کے بجائے عددی طاقت کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ یہ اتحاد زمینی سطح پر کس حد تک کامیاب رہتے ہیں اور کب تک قائم رہ پاتے ہیں۔
مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ آج کی سیاست اصولوں سے زیادہ مفادات کے گرد گھوم رہی ہے۔ عوام کے سامنے سخت مخالفت اور پردے کے پیچھے مفاہمت — یہی وہ حقیقت ہے جو مہاراشٹر کی سیاست میں بار بار دہرائی جا رہی ہے۔