حیدرآباد

حیدرآباد کے جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ کا ضمنی انتخاب۔سابق گورنردتاتریہ کی دختر کو ٹکٹ دینے بی جے پی کا غور

اس حلقہ میں اقلیتی ووٹوں کے بعد یادو طبقہ کے ووٹ زیادہ تعداد میں ہیں۔ اسی پس منظر میں دہلی کے قائدین اس طبقہ سے تعلق رکھنے والی خاتون امیدوار کو ٹکٹ دینے کے حق میں ہیں۔ پارٹی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر دتاتریہ کی بیٹی کو امیدوار بنایا جائے تو جوبلی ہلز میں بی جے پی کی جیت آسان ہوسکتی ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی قیادت سابق گورنر بنڈارو دتاتریہ کی بیٹی وجیا لکشمی کے نام پر غور کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
مرکزی وزیرکشن ریڈی کا دورہ سعودی عرب
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد

اس حلقہ میں اقلیتی ووٹوں کے بعد یادو طبقہ کے ووٹ زیادہ تعداد میں ہیں۔ اسی پس منظر میں دہلی کے قائدین اس طبقہ سے تعلق رکھنے والی خاتون امیدوار کو ٹکٹ دینے کے حق میں ہیں۔ پارٹی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر دتاتریہ کی بیٹی کو امیدوار بنایا جائے تو جوبلی ہلز میں بی جے پی کی جیت آسان ہوسکتی ہے۔

اس حلقہ کے موجودہ رکن اسمبلی ماگنٹی گوپی ناتھ کی موت کے بعد بی آر ایس نے ان کی اہلیہ سنیتا کو ٹکٹ دیا ہے، جس سے انہیں ہمدردی کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بی جے پی بھی خاتون امیدوار کو میدان میں اتارنے پر غور کر رہی ہے۔

بی جے پی کا مقصد ہر حال میں جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنا ہے تاکہ اس کے بعد ہونے والے جی ایچ ایم سی انتخابات میں زیادہ کارپوریٹر نشستوں پر جیت درج کر کے میئر کی کرسی پر قبضہ کیا جا سکے۔ پارٹی یہ بھی سمجھتی ہے کہ یہ کامیابی 2028 اسمبلی انتخابات کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگی۔

اسی لئے بی جے پی بی آر ایس اور کانگریس دونوں کے سامنے مضبوط امیدوار کھڑا کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دتاتریہ کی بیٹی وجیا لکشمی طویل عرصہ سے پارٹی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں اور کئی برسوں سے دتاتریہ کی نگرانی میں ہونے والے ”الائی بلائی” (دسہرہ کے اگلے دن کا پروگرام) کو ذاتی طور پر منظم کر رہی ہیں، تاہم انہیں اب تک کسی انتخاب میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا۔

پارٹی کا اندازہ ہے کہ اگر انہیں ضمنی انتخاب کا ٹکٹ دیا گیا تو بی سی طبقہ کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔ ریاستی بی جے پی میں اس وقت شدید گروپ بندی جاری ہے، ایسے میں اعلیٰ قیادت کا ماننا ہے کہ وجیا لکشمی کو ٹکٹ دینے کی صورت میں سب قائدین مل کر کام کریں گے۔