تلنگانہ

بی آر ایس پارٹی 4 جون کے بعد بند ہوجائے گی،تلنگانہ کے وزیر کومٹ ریڈی کا ریمارک

تلنگانہ کے وزیر عمارات وشوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ریمارک کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی اصل اپوزیشن بی آر ایس پارٹی 4 جون کے بعد بند ہوجائے گی اور لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد ریاست کا سارا سیاسی منظر تبدیل ہوجائے گا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر عمارات وشوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ریمارک کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی اصل اپوزیشن بی آر ایس پارٹی 4 جون کے بعد بند ہوجائے گی اور لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد ریاست کا سارا سیاسی منظر تبدیل ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
باپ اور بیٹے کا جیل جانا یقینی: وینکٹ ریڈی
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
مودی اور کے سی آر پر مذہب اور ذات کی سیاست کا الزام

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی آرایس کے سابق دورحکومت پر تنقید کی۔یہ کہتے ہوئے کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں شراب کی فروخت میں اضافہ کے علاوہ کوئی ترقی نہیں ہوئی، انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے شراب کی دکانات کے نام پر 2500 کروڑ روپے کمائے تھے۔

انہوں نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش کے سابق وزیراعلی وائی ایس راج شیکھرریڈی کی طرح ریونت ریڈی بھی عوام کے لئے دستیاب رہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بی آرایس کی رکن کونسل کویتا نے جو کام کیا ہے، اس کی وجہ سے تلنگانہ کے عوام ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ سابق وزیراعلی کے چندرشیکھرراو،موجودہ وزیراعلی ریونت ریڈی سے خوفزدہ ہیں اسی لئے وہ اسمبلی نہیں آرہے ہیں۔

وزیرموصوف نے کہا ہے کہ متحدہ ریاست میں کانگریس حکومت نے حیدرآباد میں بین الاقوامی ایرپورٹ، آوٹر رنگ روڈ اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر قائم کئے تھے لیکن تلنگانہ کی تشکیل کے بعد چندرشیکھرراو راو حکومت نے ریاست میں کوئی ایک بڑا پراجیکٹ قائم نہیں کیا۔

10 سال میں ریاست کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا اور ریاست کو مقروض بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 20 ہزار کروڑ روپے قرض کی ادائیگی پر خرچ ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں عوام کی آزادی ختم کرکے رکھ دی گئی، دھرنا چوک بند کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ سرکاری ملازمتوں پر تقررات نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کو کافی نقصان ہوا۔وزیر موصوف نے کونسل کے گریجویٹ حلقہ سے کانگریس امیدوار تین مار ملنا کو ووٹ دے کر کامیاب بنانے کی اپیل کی۔