تلنگانہ

بی آر ایس کو ابھی بھی مسلمانوں کی تائید حاصل: عبداللہ سہیل

بھارت راشٹرا سمیتی کے قائد جناب شیخ عبداللہ سہیل نے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے حق میں ووٹ دینے والے رائے دہندوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام نے دو میعاد کیلئے بی آر ایس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اس مرتبہ کانگریس کو حکمرانی کا موقع فراہم کیا ہے جس کو ہم دل سے قبول کرتے ہیں۔

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے قائد جناب شیخ عبداللہ سہیل نے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے حق میں ووٹ دینے والے رائے دہندوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام نے دو میعاد کیلئے بی آر ایس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اس مرتبہ کانگریس کو حکمرانی کا موقع فراہم کیا ہے جس کو ہم دل سے قبول کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مسلم رائے دہندوں نے بھارت راشٹرا سمیتی کے خلاف یک قطبی فیصلہ دیا جو کہ سراسر غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت راشٹرا سمیتی کو مسلمانوں کی تائید و حمایت حاصل ہونے کا بین ثبوت یہ ہے کہ کریم نگر سے بی جے پی کے سابق ریاستی صدر بنڈی سنجے کے خلاف بی آر ایس کے امیدوار گنگولا کملاکر نے کامیابی حاصل کی اور مسلمانوں کی تائید کے بغیر یہ کامیابی محال تھی۔

اسی طرح کورٹلہ میں بی جے پی امیدوار رکن پارلیمنٹ نظام آباد اروند دھرم پوری کے خلاف بھی بی آر ایس امیدوار کلواکنٹلہ سنجے نے 10 ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔

انہیں بھی مسلم رائے دہندوں کا بھرپور ساتھ ملا ہے۔ جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی جہاں مسلم رائے دہندوں کی تائید ملنے کی وجہ سے ہی بی آر ایس امیدوار کامیاب ہوئے۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ مسلم رائے دہندوں نے بی آر ایس کو ٹھکرادیا ہے۔ جناب عبداللہ سہیل نے کہا کہ ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور عوام کا دوبارہ خط اعتماد حاصل کریں گے۔