ترکمان گیٹ پر بلڈوزر کارروائی، فیضِ الٰہی مسجد محفوظ، دہلی ہائی کورٹ کے احکامات پر ایم سی ڈی بڑا ایکشن
دہلی کے قدیم علاقے ترکمان گیٹ میں آج صبح اُس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب میونسپل کارپوریشن آف دہلی (MCD) نے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی شروع کی۔ یہ کارروائی فیضِ الٰہی مسجد کے قریب انجام دی گئی، جہاں دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر تقریباً 20 بلڈوزرز تعینات کیے گئے۔
دہلی: دہلی کے قدیم علاقے ترکمان گیٹ میں آج صبح اُس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب میونسپل کارپوریشن آف دہلی (MCD) نے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی شروع کی۔ یہ کارروائی فیضِ الٰہی مسجد کے قریب انجام دی گئی، جہاں دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر تقریباً 20 بلڈوزرز تعینات کیے گئے۔
صبح سویرے ہی بھاری مشینری کی آمد کے بعد علاقے میں ہلچل مچ گئی۔ مقامی لوگوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی، تاہم انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہوئے تھے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ فیضِ الٰہی مسجد اور اس سے متصل درگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ہے۔ دونوں مذہبی مقامات مکمل طور پر محفوظ ہیں اور انہدامی کارروائی صرف اطراف میں موجود غیر قانونی ڈھانچوں تک محدود رکھی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد عدالت کی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مذہبی جذبات کا مکمل احترام رکھا گیا ہے اور کسی بھی مقدس مقام کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔
فی الحال علاقے میں حالات قابو میں ہیں، مگر انتظامیہ اور پولیس صورتِ حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی ممکنہ تناؤ سے نمٹنے کے لیے اضافی فورس تعینات کی گئی ہے۔
یہ کارروائی ایک بار پھر دہلی میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کو بحث کا موضوع بنا رہی ہے، جہاں ایک طرف عدالت کے احکامات ہیں تو دوسری طرف عوامی حساسیت اور مذہبی جذبات بھی جڑے ہوئے ہیں۔