حیدرآباد

حیدرآبادمیں میلاد جلوس کے دوران متنازعہ ریمارکس اور پولیس عہدیدار کو دھمکی،مسلم نوجوانوں پر مقدمہ

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حسین عالم پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حیدرآباد سٹی پولیس نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل پر واضح کیا کہ شہر کے امن کو ہرگز متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور جو بھی سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

حیدرآباد: میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے دوران بدنظمی اور ہنگامہ آرائی کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی پولیس حرکت میں آگئی۔

متعلقہ خبریں
محبت کی سرزمین ہندوستان، ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ کے زیر اہتمام شاندار جشنِ یومِ جمہوریہ
حیدرآباد: اردو گھر میں ٹی ایس ٹی یو کے زیر اہتمام تقریری مقابلے
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

تفصیلات کے مطابق 14 ستمبر کو شہر کے مختلف علاقوں میں میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے دوران بعض نوجوانوں کی جانب سے نازیبا حرکات کی گئیں۔ ایک ویڈیو میں چند افراد کو ٹریفک پولیس اہلکار سے الجھتے دیکھا گیا، جبکہ ایک اور ویڈیو میں ایک شخص کو اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حسین عالم پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حیدرآباد سٹی پولیس نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل پر واضح کیا کہ شہر کے امن کو ہرگز متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور جو بھی سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ گنیش وسرجن کے باعث میلاد النبی ﷺ کے جلوس کو 5 ستمبر سے ملتوی کرکے 14 ستمبر کو منعقد کیا گیا تھا۔ تاہم، کچھ ناسمجھ اور غیر ذمہ دار نوجوانوں کی حرکات نے جلوس کی عظمت کو مجروح کیا۔