چیف منسٹر ریونت ریڈی کا کوڑنگل کے لیے بڑے صنعتی ترقیاتی منصوبے کا اعلان، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ
تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کوڑنگل کو ایک بڑے صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے وسیع صنعتی ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کوڑنگل کو ایک بڑے صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے وسیع صنعتی ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
چیف منسٹر نے ورچوئل طریقہ سے چار اہم منصوبوں کا آغاز کیا، جن میں کوڑنگل ریئر انڈسٹریل ہب، ناری (NARI) پارک یعنی نیٹ ورک آف اپیرل ریڈینس اینڈ انفراسٹرکچر، تھرائیو (THRIVE) ہب یعنی تھوگاپور۔دودیال ہب فار ریجنل انڈسٹریز، ویلیو ایڈیشن اینڈ ایمپلائمنٹ اور رائز (RISE) پارک یعنی ریجنل انڈسٹریز اینڈ اسمال انٹرپرائزز شامل ہیں۔
حکیم پیٹ میں تقریباً 100 صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت کوڑنگل کو ایک اہم صنعتی مرکز بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں کو ایرو اسپیس، دفاعی شعبہ، گرین ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، اسٹیل، کاپر، ٹیکسٹائل اور زرعی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ شمس آباد۔کوڑنگل ریڈیل روڈ کا کام دسمبر 2027 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اس سڑک کی تکمیل کے بعد دونوں مقامات کے درمیان سفر کا وقت گھٹ کر تقریباً 70 منٹ رہ جائے گا، جس سے صنعتی سرگرمیوں اور آمدورفت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ کوڑنگل میں 250 ایکڑ اراضی پر ایجوکیشن ہب بھی تیار کیا جارہا ہے، جس کا مقصد تعلیمی سہولتوں کو بہتر بنانا اور طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ریونت ریڈی نے امید ظاہر کی کہ کوڑنگل، پرگی، سیتارام پور اور چندن ویلی مستقبل میں تلنگانہ کے اہم صنعتی مراکز کے طور پر ابھریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک، مہاراشٹرا اور آندھرا پردیش سے ان علاقوں کی قربت سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم فائدہ ثابت ہوگی۔
چیف منسٹر نے کہا کہ کوڑنگل کو ایک بڑے صنعتی مرکز میں تبدیل کرنا محض ان کی ذمہ داری نہیں بلکہ ان کا خواب ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کوڑنگل میری شناخت اور خودداری ہے۔‘‘
اس اجلاس میں اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار، وزراء دودّیلا سری دھر بابو اور واکیٹی سری ہری کے علاوہ عوامی نمائندوں اور اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔