ورنگل میں دلخراش واقعہ، شوہر کے مبینہ معاشقے سے دلبرداشتہ خاتون نے دو معصوم بچیوں سمیت تالاب میں کود کر خودکشی کرلی
متوفیہ کی شناخت ممتا (30) کی حیثیت سے کی گئی ہے، جو ضلع ورنگل کے ایلکرتی حویلی گاؤں کی رہنے والی تھی۔ تقریباً چھ سال قبل اس نے بیران پلی گاؤں کے سمّن ایریلی سے پسند کی شادی کی تھی۔ اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہرنی (4) اور کاویا شری (3) تھیں۔
ورنگل: تلنگانہ کے ضلع ورنگل میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں شوہر کے مبینہ معاشقے سے دلبرداشتہ 30 سالہ خاتون نے اپنی دو کمسن بچیوں کے ساتھ تالاب میں کود کر خودکشی کرلی۔ اس واقعہ سے مقامی علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
متوفیہ کی شناخت ممتا (30) کی حیثیت سے کی گئی ہے، جو ضلع ورنگل کے ایلکرتی حویلی گاؤں کی رہنے والی تھی۔ تقریباً چھ سال قبل اس نے بیران پلی گاؤں کے سمّن ایریلی سے پسند کی شادی کی تھی۔ اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہرنی (4) اور کاویا شری (3) تھیں۔
سمّن گاؤں میں یومیہ اجرت پر مزدوری کرتا تھا، جبکہ ممتا نرسم پیٹ کے ایک خانگی آئی ہاسپٹل میں ملازمت کرتی تھی۔ دونوں اپنی دو بچیوں کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق، سمّن کے اسی گاؤں کی ایک شادی شدہ خاتون سے مبینہ ناجائز تعلقات قائم ہوگئے تھے اور وہ تقریباً 20 دن قبل اپنی بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر اس خاتون کے ساتھ چلا گیا تھا۔
اس معاملے پر گاؤں میں پنچایت بھی منعقد ہوئی، جس میں سمّن کو اپنی بیوی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے بعد دونوں کچھ دن تک نرسم پیٹ منڈل کے مغدوم پورم میں رشتہ داروں کے مکان میں مقیم رہے۔
تاہم، سمّن دوبارہ مبینہ طور پر دوسری خاتون کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلا گیا، جس کے بعد ممتا اپنی دونوں بچیوں کے ساتھ ایلکرتی حویلی واپس آگئی۔
اسی دوران مبینہ طور پر وہ شادی شدہ خاتون اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ممتا کے گھر پہنچی اور اسے سخت برا بھلا کہا۔ اس توہین اور گھریلو تنازعہ سے دلبرداشتہ ممتا نے گھر والوں سے کام پر جانے کا کہہ کر دونوں بچیوں کے ساتھ گھر چھوڑ دیا۔
بعد ازاں وہ پاکالہ تالاب پہنچی اور حیدرآباد میں مقیم اپنے رشتہ داروں کو اپنی لوکیشن بھیجتے ہوئے پیغام دیا کہ وہ اپنی زندگی ختم کرنے جارہی ہے۔ اس کے بعد اس نے دونوں بچیوں کو اپنی کمر سے باندھا اور تالاب میں چھلانگ لگادی۔
ممتا کے رشتہ داروں نے جب بار بار فون کیا تو تالاب کے عملے نے فون ریسیو کیا۔ رشتہ داروں نے انہیں واقعہ کی اطلاع دیتے ہوئے ممتا اور بچیوں کو تلاش کرنے کی درخواست کی۔
تالاب کے عملے نے فوری تلاش شروع کی اور کچھ دیر بعد ممتا اور دونوں بچیوں کی نعشیں برآمد کرلیں۔
اس واقعہ نے مقامی افراد کو غمزدہ کردیا ہے۔ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ بیٹی اور نواسیوں کی موت کی اطلاع ملنے کے باوجود ممتا کے والدین کے جائے وقوعہ پر نہ پہنچنے کی اطلاع نے بھی کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
پولیس تحقیقات اور واقعہ سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔