حیدرآباد

حیدرآباد میں الکٹرک کار مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے چینی کمپنی کی تیاری

 تلنگانہ حکومت نے اس پراجکٹ کیلئے اراضی کے الاٹمنٹ اور ضروری منظوری کیلئے مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ حیدرآباد کے مضافات میں تین مقامات بی وائی ڈی کے نمائندوں کو تجویز کیے گئے ہیں۔ جیسے ہی کمپنی کسی ایک مقام کو منتخب کرے گی، معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ریاستی حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے خوشخبری دی ہے۔ چین کی مشہور الکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ کمپنی بی وائی ڈی حیدرآباد کے مضافاتی علاقہ میں الکٹرک کار مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس پراجکٹ کے ذریعہ ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں
قبائلی و اقلیتی پسماندگی پر توجہ دینے حکومت کی ضرورت: پروفیسر گھنٹا چکراپانی
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
تلنگانہ میں ای ڈی نے بھارتی بلڈرز کی جائیداد ضبط کرلی
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

فی الحال بی وائی ڈی چین میں تیار کردہ الکٹرک کاروں کو ہندوستان میں درآمدکر کے فروخت کر رہی ہے۔ تاہم درآمدی ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے، کمپنی نے ہندوستان میں ہی مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 تلنگانہ حکومت نے اس پراجکٹ کیلئے اراضی کے الاٹمنٹ اور ضروری منظوری کیلئے مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ حیدرآباد کے مضافات میں تین مقامات بی وائی ڈی کے نمائندوں کو تجویز کیے گئے ہیں۔ جیسے ہی کمپنی کسی ایک مقام کو منتخب کرے گی، معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔

 اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا، توتلنگانہ ہندوستان میں بی وائی ڈی کا پہلا مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے والی ریاست بن جائے گی۔