شمالی بھارت

مسلم طالبعلم کو تھپڑ رسیدکروانے والی ٹیچر سے متعلق پوسٹس ایکس پر روک دینے کی شکایات

کئی یوزرس نے مائیکرو بلاگنگ پلاٹ فام پر اپنے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس پیش کئے ہیں کہ سائٹ پر ان کے ٹوئٹس دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ان پوسٹس پر یہ تحریر نمودار ہورہی ہے کہ ’قانونی تقاضے کے جواب میں اس پوسٹ کو روکے رکھا گیا ہے۔

حیدرآباد: مائیکرو بلاگنگ پلاٹ فام ’ایکس‘ کے کئی یوزرس نے ہفتہ کو شکایت کی کہ اسکولی بچوں کو اپنے 7 سالہ مسلم ساتھی کو تھپڑ رسید کرنے کی ہدایت دینے والی ٹیچر کے تعلق سے ان کے پوسٹس کو بھارت میں بلاک کردیا گیا ہے۔

یہ واقعہ دو دن قبل اترپردیش کے مظفر نگر ضلع کے قباپور موضع کے نیہا پبلک اسکول میں پیش آیا۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس کے بعد مختلف گوشوں سے اس کی مذمت کی جانے لگی ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس واقعہ کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فرقہ پرستی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیچر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم کئی یوزرس نے مائیکرو بلاگنگ پلاٹ فام پر اپنے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس پیش کئے ہیں کہ سائٹ پر ان کے ٹوئٹس دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ان پوسٹس پر یہ تحریر نمودار ہورہی ہے کہ ’قانونی تقاضے کے جواب میں اس پوسٹ کو روکے رکھا گیا ہے۔

 جن کے پوسٹس روکے رکھے گئے ہیں ان میں شاداب خان بھی شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے یہ ویڈیو شیئر کیا تھا۔ کئی سوشل میڈیا یوزرس بشمول اداکارہ ارمیلا ماتونڈکر اور جرنلسٹس روہنی سنگھ اور گرفگی راوت کے پوسٹس کو روک دیا گیا ہے۔

ان یوزرس نے استفسار کیا ہے کہ ان کے پوسٹس کیوں بلاک کئے گئے حالانکہ انہوں نے نہ ہی توہین آمیز زبان استعمال کی ہے اور نہ ہی غیر درست اطلاعات پھیلائی ہیں۔ کانگریس کی سپریہ شرینیٹ نے الزام عائد کیا کہ مرکز نے جمعہ کو ٹوئٹر کو ہنگامی احکام صادر کئے کہ بچے کو تھپڑ مارنے کاویڈیو بلاک کیا جائے۔

انہوں نے ادعا کیا کہ ہفتہ کی صبح حکومت نے مزید احکام جاری کئے کہ لنکس اور کیس سے متعلق ہاش ٹاگس کو بھی بلاک کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ پر پابندی لگانا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

 یہ احساس کیا جائے کہ کس طرح ایک ٹیچراس قدر عصبیت اور حقارت کا شکار ہوسکتی ہے اور وہ ایک بچہ کو مذہب کی بنیاد پر الگ تھلگ کرتے ہوئے اس کو اسی کے ساتھیوں سے تھپڑ رسید کرواسکتی ہے۔ مرکز نے اس مسئلہ پر ابھی تک تبصرہ نہیں کیا ہے۔

 ترپتا تیاگی کے خلاف ہفتہ کو بچہ کے والدین کی شکایت پر ناقابل دست اندازی الزامات کے تحت ایک مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ٹیچر کے خلاف تعزیرایت ہند کی دفعات 323 (رضاکارانہ طور پر زک پہنچانے کے لئے سزاء دینا) اور 504 (امن کو درہم برہم کرنے کے لئے اکساتے ہوئے دانستہ تضحیک کرنا) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ناقابل دست اندازی مقدمہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پولیس وارنٹ کے بغیر ملزم کو گرفتار نہیں کرسکتی  اور تحقیق شروع کرنے کے لئے ایک مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

 ٹیچر کی اس سنگین غلطی پر معمولی سی دفعات لگانے پر بھی مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ ٹیچر نے اپنی اس فاش غلطی پر نادم ہونے کی بجائے تاویلات پیش کررہی ہیں کہ وہ اپاہج ہونے کی وجہ سے خود سزا دینے کی بجائے بچوں سے مارنے کے لئے کہا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ بچہ کے والدین نے ہی سختی کرنے کی سفارش کی تھی۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ویڈیو کے وائرل ہوجانے کے دوسرے دن بچہ کے والد نے کہا کہ وہ خوف زدہ ہیں اور انہیں قبا پور میں جہاں وہ رہتے ہیں‘ اپنے مستقبل کے بارے فکر مند ہیں۔

انڈین اکسپریس کے مطابق ٹیچر کے خلاف کیس نہ کرنے کے لئے اس خاندان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ایک قریبی موضع کے صدر کے ساتھ ساتھ کسان قائد نریش ٹکیٹ انہیں سمجھوتہ کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ہفتہ کی صبح بچہ کے گھر کے پاس سیاست دانوں‘ دیہی قائدین‘ صحافیوں اور مقامی لوگوں کا تانتا لگ گیا تھا۔

 آر ایل ڈی اور بھیم آرمی نے تاہم خاندان کی حمایت کی جب کہ دیہاتوں کے سربراہوں کا ایک گروپ چاہتا تھا کہ ٹیچر کے خلاف شکایت واپس لے لی جائے۔ موضع پورا کے سربراہ نریندر تیاگی نے بچہ کے والد سے کہا ”یہ ڈرامہ اب بند کردیں۔ ہم اس گاؤں میں میڈیا کی موجودگی نہیں چاہتے۔

 میں چاہتا ہوں کہ تم پولیس اسٹیشن جاؤ اور ان سے کہو کہ تم کوایف آئی آر کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کو بھول جاؤ ورنہ اس کے نتائج کا تمہیں سامنا کرنا ہوگا۔“ کسان قائد ٹکیٹ نے ایک اجلاس منعقد کیا جس کو اس نے امن اجلاس قرار دیا اور بچہ کے والد سے کہا کہ سمجھوتہ کرلیں اور ایف آئی آر کو خارج کروادیں۔

 بعدازاں لڑکے کے والد نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ترپتا میڈم کو گرفتار کیا جائے یا ان کے خلاف کارروائی کی جائے‘ وہ ایک زرعی مزدور ہیں اور وہ خوف زدہ ہیں۔

ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ معذرت خواہی کرلیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے بچہ کو اب دوبارہ اس اسکول نہیں بھیج سکتے۔یاد رہے کہ نیہا پبلک اسکول اسی ترپتا کا ہے جس نے یہ سنگین حرکت کی ہے۔