حیدرآباد

معاشرے میں بڑھتے ہوئے قتل و نشہ کی لت تشویشناک، محبت رسول کے ماحول کی ضرورت

مولانا خواجہ سید غیاث الدین چشتی جانشین حضرت سید صولت حسین چشتی رح سابق دیوان درگاہ اجمیر شریف نے دعائے خیر امن و سلامتی کے لیے کی جناب سید اجمیری پاشاہ حافظ یوسفین حیدر  جناب شہباز خان جناب سید یونس قادری چشتی  نےعلماء مشائخ کا شکریہ ادا کیا۔

حیدرآباد: شبِ معراج یعنی ماہِ رجب کی ستائیسوی شب کو اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے حبیب پاک صل اللہ علیہ و سلم کو آسمانوں کی سیر کروائی اور اپنے دیدار سے مشرف کیا اس معراج النبی کے موقع پر پیارے نبی صل اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو بھی اسی طرح معراج اور براق کی تمنا کا اظہار کرتے ہوئے رب سے خواہش کا اظہار کیا تو رب تبارک و تعالٰی نے اپنے حبیب کی امت کے لئے بھی ایسی ہی نعمت نماز کی شکل میں دی جو نماز پڑھےگا اسکو معراج عطا ہوگی۔

متعلقہ خبریں
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی

 اسی لئیے نماز مومن کی معراج قرار دی گئی ہے واقع معراج قرآن و احادیث کی روشنی سے ثابت ہیں معراج النبی پیارے نبی صل اللہ علیہ و سلم کے معجزات میں ایک عظیم معجزہ ہے عظمت رسول کا اظہار شب معراج ہے امت مصطفی کے لیے سب سے بڑا انعام و اکرام کی رات شب معراج کا سفر ہے۔

 اللہ کے نبی نے براق پہ سوار ہونے سے پہلے امت کو یاد کیا تو اللہ نے غلامان محمد کو پل صراط پر براخ عطا کرنے کا وعدہ کیا اللہ کے نبی سفر معراج میں رات کے ایک حصے میں بیت المقدس پہنچے اور وہاں پر انبیاء کی امامت فرما کر امام الانبیاء کے مقام پر فائز ہوئے اللہ نے وہ شان و عظمت اپنے محبوب نبی کو عطا فرمائی حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو ام ہانی کے گھر جب جگانے آئے تو جبرائیل نے اپنی انکھوں کو نبی رحمت کی تلوں کو مل کر بیدار کیا اور کہا کہ اللہ اپ کو آسمانوں کی سیر اور اپنے دیدار سے مشرف کرنے کے لیے کہا ہے۔

 حضرت جبرائیل نورانی فرشتوں کی جھرمٹ میں اللہ کے نبی کا سفر شروع کیا آسمانوں کی سیر سفر معراج کے دوران اللہ کے نبی نے ان تمام اسمانوں کا مشاہدہ فرمایا جنت وہ دوزخ اور تمام انے والے واقعات کا مشاہدہ فرمایا اور جب سدرۃ المنتہی پر پہنچے اس کے بعد لامکاں کی منزل پر بڑھنا تھا حضرت جبرائیل نے کہا ایک قدم بھی اگے نہیں بڑھ سکتا اگر بڑھوں تو میرے پر جل جائیں گے خوسین کی منزل پہ پہنچ کر بھی اللہ کے نبی نے امت محمدیہ کو یاد فرمایا۔

 کل ہند تنظیم اصلاح معاشرہ کے زیر اہتمام درگاہ حضرات یوسفین رحمۃ اللہ علیہ نامپلی حیدرآباد میں سالانہ عظیم الشان سدرۃ المنتہی کانفرنس سے مولانا حافظ محمد احمد نقشبندی،حضرت مولانا سید خواجہ غیاث الدین چشتی اجمیری مولانا سید فضل اللہ قادری الموسوی سجادہ نشین درگاہ موسی قادری،

مولانا حافظ حامد حسین حسان فاروقی جانشین حضرت علامہ الطاف حسین فاروقی علیہ الرحمہ، مولانا سید شاہ شیخن احمد شطاری کامل پاشاہ سجادہ نشین مرکزی آستانہ شطاریہ،مولانا ڈاکٹر پروفیسر سید جھانگیر علی قادری، مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری صدر قادریہ انٹرنیشنل، مولانا شاہ محمد منہاج قادری چشتی، مولانا قاضی سراج الدین رضوی،

مولانا مفتی وجیہ اللہ سبحانی،مولانا ڈاکٹر خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ جانشین حضرت گنج انوار علیہ الرحمہ، مولانا صوفی ارشد چشتی،  مولانا سید الیاس احمد قادری،جناب اکبر محی الدین قادری مشائخ بالا پور، مولانا حافظ محمد علی قادری امام کونسل،

مولانا قاضی صوفی عبدالقادر ثانی چشتی سجادہ نشین درگاہ شریف حضرت سلطان الواعظین رح، مولانا سید رفعت علی نقشبندی، جناب محمد رحیم اللہ خان نیازی نے مخاطب کیا۔

 نورانی شب معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہی کانفرنس کا احاطہ درگاہ حضرات یوسفین رحمۃ اللہ علیہ میں مولانا سید اکبر علی شاہ قادری امام درگاہ یوسفین کی قرآت کلام پاک سے آغاز ہوا بارگاہ رسالت میں قاری اسد اللہ شریف،

قاری فرحت اللہ شریف نے ہدیہ نعت پیش کی اس کانفرنس کے نگرانی مولانا محمد عبدالحمید رحمانی چشتی صدر کل ہند تنظیم اصلاح معاشرہ چیف ایڈیٹر  روزنامہ سماج سدھار نے کی علماء مشائخ نے سدرۃ المنتہی کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں شب معراج اللہ نے اپنے حبیب کو معرفت الہی سے اور امت محمدیہ کو نماز جیسے عظیم تحفے کے ساتھ شفاعت کبری سے عرش معلی سرفراز فرما کر رب نے ایک عظیم نعمت عطا فرمائی

 لیکن کچھ لوگ جہاں نماز کی بات کرتے ہیں لیکن نماز جس دن عطا ہوئی اس دن مساجد کو بند رکھے ہوئے ہیں اس پر علماء کرام نے تشویش کا اظہار کیا شب معراج کی خوشی و مسرت اللہ کے نبی کو اتنی زیادہ تھی جس سال اللہ نے نبی رحمت کو ان کی خاص اہلیہ حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب علیہ السلام کا انتقال ہوا۔

 اس سال کو اللہ کے نبی نے غم کا سال کہا تھا لیکن وہیں اللہ نے سفر معراج میں شفاعت کبری اور نماز کا تحفہ دے کر اللہ کے نبی کو اتنا خوش کیا کہ اللہ کے نبی اس پر اظہار مسرت میں فرمایا کرتے کہ اللہ نے مجھے بہت بڑی نعمت عطا فرمائی تو امت کو چاہیے کہ ایسے موقع پر انے والی نسلوں کو عظمت رسول کے واقعات معجزات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقف کرواتے ہوئے ان کے اندر عشق رسول کو اجاگر کیا جائے۔

 اس موقع پر علماء کرام نے خاص طور سے نوجوانوں کو نشے کی بری لت سے دور رہتے ہوئے اپنے اندر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خیر امت کا حق ادا کریں اللہ نے تمہیں لوگوں کو برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے خاص طور سے قتل خون خرابے پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ جتنا مظلوم فلسطینوں کے بچوں کو مارنے والا وہ ظالم نتن یاہو ہے اس سے کہیں بڑا ظالم وہ مسلمان ہے جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا قتل کر کر بچوں کو یتیم اور اس کے گھر والوں کو بیوہ کر رہا ہے اللہ ایسے لوگوں کی نہ دعا قبول کرتا ہے نہ درگاہوں پر حاضری قبول کرتا ہے جو ظالم حضرات ہیں مسلمان آپسی میں پیار محبت سے رہتے ہوئے اپنے بچوں کو بری صحبتوں سے روکیں۔

 یہ اہم ذمہ داری ہے مسلم خواتین پردے کی پابندی کرتے ہوئے اپنے معاشرے میں ایک تبدیلی لائیں اور سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز کو دیکھ کر بڑی شرمندگی ہوتی ہے کہ برائی کے اڈے عام ہو رہے ہیں زنا کے اڈے عام ہو رہے ہیں جس پر کوئی منظم کام نہیں ہو رہا ہے ایسے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگیوں میں اس عارضی زندگی کو بہتر کرنے کے لیے جتنی جدوجہد کر رہے ہیں اخروی زندگی کو سدھارنے کی کوشش کریں جتنا نوجوان نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے جائے گا۔

 اللہ کا قرب اسے عطا ہوگا اور دنیاوی زندگی مختصر ہے اخروی زندگی ہمیشہ ہمیشہ دائمی ہے ایسے میں ہمیں چاہیے کہ اب توبہ کریں اور راتوں میں دیر تک جاگ نہ بند کریں اور ایک مثالی مسلمان بن کر دنیا کو ان بربریت مسلمانوں کے خلاف جو جاری ہے اس کا جواب اپنے اخلاق و کردار سے دیں نماز کے اوقات میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ پتنگیں اڑا اڑا کر اوازیں پکارا شور شرابہ کرتے ہوئے قبرستانوں کے قریب نہ انہیں موت کا ڈر ہے نہ اخرت کی فکر ہے ایسے میں چاہیے کہ وہ حلال روزی کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی اولیاء صالحین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے عزیز و اقارب کو برائی سے روکتے ہوئے اخرت کی فکر کریں۔

 اخر میں مولانا خواجہ سید غیاث الدین چشتی جانشین حضرت سید صولت حسین چشتی رح سابق دیوان درگاہ اجمیر شریف نے دعائے خیر امن و سلامتی کے لیے کی جناب سید اجمیری پاشاہ حافظ یوسفین حیدر  جناب شہباز خان جناب سید یونس قادری چشتی  نےعلماء مشائخ کا شکریہ ادا کیا۔