تلنگانہ

ناگرکرنول میں کانگریس اور بی آرایس کارکن متصادم

کل رات ہوئے اس تصادم میں ایک گاڑی کے شیشوں کو نقصان پہچایاگیا اوردونوں جماعتوں کے بعض کارکن زخمی ہوگئے جن کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کردیاگیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع ناگرکرنول میں کانگریس اور بی آرایس کے کارکنوں میں تصادم کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجہ میں ضلع کے نلہ ملہ اچم پیٹ میں کشیدگی دیکھی گئی۔

متعلقہ خبریں
آسام کے اسمبلی حلقہ سماگوڑی میں بی جے پی اور کانگریس ورکرس میں ٹکراؤ
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ترنمول کانگریس قائد کا قتل باروپور میں کشیدگی
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

کل رات ہوئے اس تصادم میں ایک گاڑی کے شیشوں کو نقصان پہچایاگیا اوردونوں جماعتوں کے بعض کارکن زخمی ہوگئے جن کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کردیاگیا۔

لنگانہ کی حکمران جماعت بی آرایس کے رکن اسمبلی بالاراجو کی جانب سے رائے دہندوں میں رقم کی تقسیم کی اطلاع پا کر کانگریس کے کارکن بڑے پیمانہ پر وہاں جمع ہوگئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ رائے دہندوں میں رقم کی تقسیم سے روکنے کی کوشش پر بی آرایس کارکنوں نے ان پر حملہ کردیاجس میں وہ زخمی ہوگئے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے رکن اسمبلی کی بیوی کی کار کی تلاشی بھی نہیں لی۔کانگریس کے مقامی لیڈروں نے کہاکہ بالاراجو غنڈہ گردی کررہے ہیں۔

وہ تمام کو دھمکارہے ہیں۔وہ رات کے دس بجے کے بعد بھی انتخابی مہم چلارہے ہیں اورمواضعات پہنچ کر رقومات رائے دہندوں میں تقسیم کررہے ہیں۔کسی بھی طرح وہ کامیاب ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ان کو ناکامی کا خوف ہے۔

انہوں نے پولیس کا جانبداری کا الزام لگایا اور کہاکہ پولیس نے رکن اسمبلی کے حامیوں کو رقم تقسیم کرنے سے نہیں روکا۔کانگریس کارکنوں او رلیڈروں کی جانب سے اس واقعہ کے خلاف دھرنادیاگیا اور نعرے بازی کی گئی۔پولیس نے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو منتشر کردیا۔