کانگریس نے پی اے سی چیرمین کا عہدہ اپوزیشن کودیا
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ کانگریس نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین کا عہدہ اپوزیشن کو دیا ہے، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس سے خواہش کی کہ وہ وضاحت کریں کہ جب اسپیکر نے اسمبلی میں بی آر ایس کے اراکین اسمبلی کی تعداد کا اعلان کیا تو وہ اعتراض کرنے میں کیوں ناکام رہی۔

حیدر آباد: چیف منسٹر ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ کانگریس نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین کا عہدہ اپوزیشن کو دیا ہے، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس سے خواہش کی کہ وہ وضاحت کریں کہ جب اسپیکر نے اسمبلی میں بی آر ایس کے اراکین اسمبلی کی تعداد کا اعلان کیا تو وہ اعتراض کرنے میں کیوں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا بجٹ اجلاس کے آخری دن بی آر یس اراکین اسمبلی کی تعداد 38 بتائی گئی تھی۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس قیادت سے سوال کیا کہ وہ وضاحت کریں کہ سابق بی آر ایس حکومت نے پی اے سی چیئرمین کا عہدہ اے آئی ایم آئی ایم کو کیوں دیا تھا چیف منسٹر نے کہا کہ جب کانگریس اہم اپوزیشن پارٹی تھی تو اکبر الدین اویسی کو 2019 سے 2023 تک پی اے سی کے چیئرمین کے طور پر کیسے برقرار رکھا گیا؟
انہوں نے کہا انہیں یقین ہے کہ ہماری حکومت اس وقت مزید بہتر ہو گی جب انحراف سے متعلق قانون کو مزید سخت کیا جایگا۔ عدالتوں کے فیصلہ ہماری مدد کریں گے۔ اگر ہمارے ایم ایل ایز کوئی غلطی نہیں کرتے ہیں تو ہماری حکومت مضبوط رہے گی کیونکہ ہمارے پاس 65 ایم ایل ایز ہیں۔
چیف منسٹر نے کہا یہ بی آر ایس اور بی جے پی کے ہی قائدین تھے جنہوں نے کہا تھا کہ وہ کانگریس حکومت کو گرائیں گے۔ انہوں نے ہی 3 ماہ اور 6 ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔ چیف منسٹر نے کہا درحقیقت اگر عوامی نمائندگی ایکٹ اور اینٹی ڈیفیکشن ایکٹ سخت ہوتے ہیں تو یہ ہمارے لیے اچھا ہوگا۔
انہوں نے کہا اصل تلخ حقیقت یہ ہے کہ بی آر ایس نے ہی انحراف کی حوصلہ افزائی کی تھی، اور اب وہ اخلاقیات کا درس دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہے الفاظ اتنے نازیبا ا ہیں کہ ان کو دہرایا یا شائع بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ رکن اسمبلی شیر لنگم پلی اے گاندھی کا پی اے سی کے صدر نشین کے طور پر تقرری نے کے چندر شیکھر راؤ کی زیرقیادت بی آر ایس کو ناراض کر دیا ہے جس کو بی آر ایس نے ”آئین کا دن دہاڑے قتل“قرار دیا ہے کیونکہ پی اے سی کے چیئرمین کے طور پر اپوزیشن ممبر کو مقرر کرنا ایک روایت ہے جبکہ گاندھی نے بی آر یس سے انحراف کرتے ہوئے حکمران کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔