حیدرآباد

بنگال میں بابری مسجد کی بنیاد رکھنے پر تنازع، ملعون راجہ سنگھ نے دی دھمکی

بنگال میں 6 دسمبر کو ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا، جب ٹی ایم سی کے ایک ایم ایل اے نے یہ اعلان کیا تھا کہ ریاست میں ایک نئی مسجد ’بابری مسجد‘ کے نام سے تعمیر کی جائے گی۔

بنگال میں 6 دسمبر کو ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا، جب ٹی ایم سی کے ایک ایم ایل اے نے یہ اعلان کیا تھا کہ ریاست میں ایک نئی مسجد ’بابری مسجد‘ کے نام سے تعمیر کی جائے گی۔ اعلان کے بعد بڑی تعداد میں ان کے حامی اینٹیں اور دیگر تعمیراتی سامان لے کر پہنچے اور مسجد کی بنیاد رکھی۔

متعلقہ خبریں
بابری مسجد کیلئے جدوجہد جاری رہے گی: سعید آباد خواتین
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

اس واقعے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی ردعمل سامنے آیا—کچھ حلقوں نے اسے ایم ایل اے کی "جرأت مندانہ کارروائی” قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے اس پر تنقید بھی کی۔

راجہ سنگھ کے بیان پر اختلافات

گوشہ محل کے ایم ایل اے راجہ سنگھ نے اس معاملے پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں مسجد کی بنیاد رکھنے کے عمل پر اعتراض کیا اور سخت جملے استعمال کیے۔
راجہ سنگھ نے کہا کہ ’میں چیالنج کرتا ہوں کہ بھارت کے رام بھکتوں کو لے جاکر بابر کا نام جس طرح ایودھیا میں مٹایا گیا تھا ویسے ہی بنگال میں بھی رام بھکت جائے گا اور بابر کے نام پر بنی مسجد کی ایک ایک اینٹ کو سماپت کرے گا’
راجہ سنگھ نے مزید کہا کہا بنگال پر ایک راکششی راج ہے جس کو ختم کرنے کی تیاری کرنی چاہئے۔

راجہ سنگھ کے اس بیان کے بعد سوشیل میڈیا اور سیاست کی دنیا میں پھر ایک بار بحث چھڑ گئی ہے۔

ٹی ایم سی کی کارروائی

ٹی ایم سی نے پہلے ہی ایم ایل اے کو پارٹی سے معطل کردیا ہے اور پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ایم ایل اے کا یہ اقدام بغیر اجازت اور پارٹی کی پالیسی کے خلاف تھا، اسی لیے ان کے خلاف نظم و ضبط کے تحت کارروائی کرتے ہوئے فوری طور پر معطل کیا گیا۔ٹی ایم سی رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ ریاست میں امن و امان برقرار رکھا جائے اور کسی طرح کے فرقہ وارانہ ماحول کو ہوا نہ دی جائے۔