قومی

یو پی ایس سی نتائج: ایک ہی رینک 708 پر دو امیدواروں کا دعویٰ

یو پی ایس سی عام طور پر نتائج کے 15 سے 20 دن کے اندر امیدواروں کی مارک شیٹ جاری کرتا ہے۔ مارک شیٹ جاری ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ آل انڈیا رینک 708 کی اصل حقدار کون ہے۔

نئی دہلی: یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کے سول سروِس امتحان 2025 کے نتائج جاری ہونے کے بعد آل انڈیا رینک 708 کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ایک ہی نام کی دو لڑکیوں نے اس رینک پر اپنا دعویٰ پیش کیا ہے، جس کے بعد معاملہ موضوعِ بحث بن گیا ہے۔

اترکھنڈ کے شہر روڑکی کے پیران کلیئر علاقہ کی رہنے والی فیروز فاطمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سول سروِس امتحان میں آل انڈیا 708ویں رینک حاصل کی ہے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی ان کے خاندان اور رشتہ داروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور علاقہ کے لوگ مبارکباد دینے کے لئے پہنچنے لگے۔

تاہم کیرالہ کی رہنے والی فیروز فاطمہ ایم نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سول سروِس امتحان 2025 میں آل انڈیا رینک 708 دراصل انہوں نے حاصل کی ہے، نہ کہ روڑکی کی فیروز فاطمہ نے۔ اس طرح ایک ہی رینک پر دو مختلف امیدواروں کے دعووں کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہوگیا ہے۔

روڑکی کی فیروز فاطمہ کے والد پیشہ سے ٹرک ڈرائیور ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سے لے کر بارہویں جماعت تک کی تعلیم یوپی بورڈ سے حاصل کی۔ بعد ازاں سول سروِس امتحان کی تیاری کے لئے وہ دہلی گئیں اور وہیں رہ کر مسلسل محنت کرتی رہیں۔

فی الحال وہ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) میں اسسٹنٹ منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2024 میں انہوں نے آر بی آئی کے اسسٹنٹ منیجر کے عہدے کے لئے درخواست دی تھی اور ان کا انتخاب ہوگیا تھا۔ بینک کی ملازمت کے ساتھ ساتھ وہ یو پی ایس سی امتحان کی تیاری بھی کرتی رہیں۔

یو پی ایس سی کے نتائج جاری ہونے کے بعد جب فیروز فاطمہ نے 708ویں رینک حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تو کیرالہ کی فیروز فاطمہ ایم نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رینک دراصل ان کی ہے۔

فی الحال اس معاملہ پر حتمی صورتحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔ یو پی ایس سی عام طور پر نتائج کے 15 سے 20 دن کے اندر امیدواروں کی مارک شیٹ جاری کرتا ہے۔ مارک شیٹ جاری ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ آل انڈیا رینک 708 کی اصل حقدار کون ہے۔