قومی

ریس کورس مسجد میں نماز کی اجازت دینے سے دہلی ہائی کورٹ کا انکار

دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز نمازیوں کو ریس کورس مسجد میں داخلے اور نماز ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا حالانکہ مرکز نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فی الحال اس عبادت گاہ کے خلاف کوئی تادیبی یا انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز نمازیوں کو ریس کورس مسجد میں داخلے اور نماز ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا حالانکہ مرکز نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فی الحال اس عبادت گاہ کے خلاف کوئی تادیبی یا انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

جسٹس انیش دیال نے لوٹینز دہلی میں عوامی مقصد کے تحت مرکز کے زیر قبضہ اراضی پر واقع مسجد کے تحفظ سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران مسجد کے اطراف جاری انہدامی کام کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارک کیا کہ اگر کوئی زخمی ہو جائے تو اس کا معاوضہ کون ادا کرے گا؟مرکزی حکومت کے اسٹینڈنگ کونسل آشیش دکشت نے عدالت کو بتایا کہ دہلی وقف بورڈ کی جانب سے موصولہ نمائندگی پر متعلقہ حکام چار ہفتوں کے اندر فیصلہ کریں گے اور اس دوران مسجد کے خلاف کوئی تادیبی اقدام نہیں کیا جائے گا۔

مسجد میں آمد و رفت کی اجازت دینے کی درخواست پر انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اطراف جاری مسماری کے سبب فی الوقت وہاں داخلہ محفوظ نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ معاملے کو آگے بڑھنے دیں اور حکام کو فیصلہ کرنے دیں، یہ ایک مناسب موقف ہے اور ہم انہیں نماز کے لیے داخلے کی اجازت دینے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

وکیل نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الوقت اسی احاطے میں موجود ایک مندر میں بھی پوجا کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

درخواست گزار سید احمد سعود نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے جے پور پولو گراؤنڈ کے احاطے میں 1977 سے بطور نوٹیفائیڈ وقف جائیداد موجود ریس کورس مسجد کو مسمار ہونے سے بچانے اور وہاں نمازیوں کے داخلے کو بحال کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی ہے۔