تلنگانہحیدرآباد

حیدرآباد میں راشن کے چاولوں کا بڑا کھیل بے نقاب!

حیدرآباد میں راشن کے چاولوں کو پالش کرکے بڑے کمپنیوں کے برانڈ کے نام پر مہنگے داموں فروخت کرنے والے مافیا کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، راشن کے چاولوں کو پالش کرکے عمدہ کوالٹی کے چاولوں کی شکل دی جا رہی تھی اور پھر انہیں بڑے کمپنیوں کے برانڈ نام استعمال کرتے ہوئے 80 سے 100 روپے فی کلو کے حساب سے کھلی مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

حیدرآباد میں راشن کے چاولوں کو پالش کرکے بڑے کمپنیوں کے برانڈ کے نام پر مہنگے داموں فروخت کرنے والے مافیا کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، راشن کے چاولوں کو پالش کرکے عمدہ کوالٹی کے چاولوں کی شکل دی جا رہی تھی اور پھر انہیں بڑے کمپنیوں کے برانڈ نام استعمال کرتے ہوئے 80 سے 100 روپے فی کلو کے حساب سے کھلی مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

اس معاملے میں محکمہ سیول سپلائیز اور ویجلنس کے عہدیداروں نے حیدرآباد کے کرمان گھاٹ علاقے میں چاول کے گوداموں اور ڈپوز پر بیک وقت چھاپے مارے۔ اس کارروائی کے دوران مختلف چاول کی دکانوں سے نمونے بھی حاصل کیے گئے، تاکہ چاولوں کے معیار اور ان کی فروخت سے متعلق حقائق کا پتہ لگایا جاسکے۔

اطلاعات کے مطابق، عہدیداروں کی کارروائی کی اطلاع ملتے ہی بعض دکاندار اپنی دکانیں بند کرکے وہاں سے فرار ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد راشن کے چاولوں کو پالش کرکے مہنگے داموں فروخت کرنے کے معاملے پر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

راشن کا نظام غریب اور مستحق خاندانوں کو رعایتی یا مفت چاول فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر راشن کے چاولوں کو غیر قانونی طور پر حاصل کرکے ان کی شکل و صورت تبدیل کی جائے اور انہیں معروف کمپنیوں کے برانڈ کے نام پر فروخت کیا جائے تو یہ نہ صرف صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی ہے بلکہ سرکاری راشن نظام میں بے ضابطگیوں کا بھی سنگین معاملہ بن سکتا ہے۔
عہدیداروں کی جانب سے جمع کیے گئے چاولوں کے نمونوں کی جانچ اور چھاپوں کے دوران حاصل ہونے والی معلومات سے اس معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ تاہم، چاولوں کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث افراد اور استعمال کیے گئے برانڈ ناموں کے بارے میں سرکاری طور پر مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔