علی ساگر پروجیکٹ سے فوری پانی کی اجرائی کا مطالبہ، کے کویتا کی حکومت سے اپیل
تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے علی ساگر لفٹ ایریگیشن پروجیکٹ سے فی الفور پانی جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے علی ساگر لفٹ ایریگیشن پروجیکٹ سے فی الفور پانی جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کو بروقت آبی سربراہی نہ ہونے کے باعث کسانوں اور زرعی مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس پر حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیے۔
کے کویتا نے ایک صحافتی بیان میں بتایا کہ نظام آباد ضلع کے بودھن، آرمور اور نظام آباد رورل اسمبلی حلقوں میں 48 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ پر فصلوں کی کاشت علی ساگر پروجیکٹ پر منحصر ہے۔ تاہم یاسنگی سیزن کے آغاز کے باوجود اب تک پانی کی عدم اجرائی کے باعث کسان شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوداوری ندی میں وافر مقدار میں پانی موجود ہونے کے باوجود علی ساگر لفٹ ایریگیشن پروجیکٹ سے پانی کی عدم اجرائی ناقابلِ فہم ہے۔ ان کے مطابق صرف نوئی پیٹ منڈل میں ہی علی ساگر کے تحت تقریباً 14 ہزار ایکڑ رقبہ پر یاسنگی فصلوں کی کاشت کی جا رہی ہے، جہاں کسان فوری آبی سربراہی کے منتظر ہیں۔
تلنگانہ جاگروتی کی صدر نے نشاندہی کی کہ یاسنگی سیزن کے دوران دھان کی تخم ریزی کے لیے مختلف ریاستوں سے بڑی تعداد میں زرعی مزدور بھی نظام آباد ضلع پہنچ چکے ہیں، مگر پانی کی اجرائی میں تاخیر کے باعث نہ صرف کسان بلکہ یہ مزدور بھی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔
آخر میں کے کویتا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بلا تاخیر علی ساگر لفٹ ایریگیشن پروجیکٹ سے پانی کی اجرائی عمل میں لائے اور ایاکٹ یعنی زیرِ آبپاشی رقبہ کو فوری طور پر پانی فراہم کرے، تاکہ کسانوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور یاسنگی فصلوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔