ریونت ریڈی کے حلقہ انتخاب میں انہدامی کارروائی، 80 خاندان بے گھر، 20 دکانیں بھی منہدم
اطلاعات کے مطابق عہدیدار پولیس کی نگرانی میں بلڈوزر لے کر علاقے میں پہنچے اور تقریباً 80 خاندانوں کے مکانات منہدم کردیئے۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 20 دکانیں بھی منہدم کیے جانے کی اطلاع ہے۔
کوڑنگل: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے اسمبلی حلقہ کوڑنگل کے مَدّور ٹاؤن میں پولیس کی بھاری موجودگی کے درمیان مبینہ طور پر بلڈوزر چلا کر مکانات اور دکانیں منہدم کیے جانے کے بعد مقامی افراد میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق عہدیدار پولیس کی نگرانی میں بلڈوزر لے کر علاقے میں پہنچے اور تقریباً 80 خاندانوں کے مکانات منہدم کردیئے۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 20 دکانیں بھی منہدم کیے جانے کی اطلاع ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے الزام عائد کیا کہ انہدام سے قبل انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مکانات اور دکانیں منہدم کرنے سے پہلے انہیں مناسب وضاحت یا متبادل انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔
متاثرین نے بتایا کہ انہیں اپنے گھروں اور روزگار سے محروم ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ حکام کی جانب سے کارروائی سے قبل معاوضہ دینے کی یقین دہانی بھی نہیں کرائی گئی۔
مقامی متاثرین نے حکومت کی کارروائی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھروں اور دکانوں کے منہدم ہونے سے ان کی زندگی اور روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔
یہ کارروائی مَدّور ٹاؤن، کوڑنگل اسمبلی حلقہ میں انجام دی گئی ہے۔ تاہم، انہدام کی قانونی بنیاد، متاثرین کو نوٹس جاری کیے جانے اور معاوضہ یا بازآبادکاری سے متعلق سرکاری موقف کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور متعلقہ عہدیداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انہدامی کارروائی کی وجوہات واضح کی جائیں اور بے گھر ہونے والے خاندانوں اور روزگار سے محروم دکانداروں کو مناسب ریلیف فراہم کیا جائے۔