آندھراپردیش

ڈیجٹیل گرفتاری۔ موظف پروفیسر کے 78لاکھ روپئے دھوکہ سے لوٹ لئے گئے

انہوں نے کہاکہ شرما جس موبائل فون کااستعمال کرتے ہیں اس کی سم کارڈ میں فرق ہے اوراس کے ذریعہ سائبردھوکہ بازی کی گئی ہے۔انہوں نے بعد ازاں ڈیجیٹل گرفتار کی دھمکی دی ۔

حیدرآباد: ڈیجٹیل گرفتاری کے نام پر سائبرمجرمین نے موظف پروفیسر کے 78لاکھ روپئے دھوکہ سے لوٹ لئے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
قرض کالالچ دے کر عوام کو ٹھگنے کے واقعات میں اضافہ
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی


یہ واقعہ اے پی کے مغربی گوداوری ضلع کے بھیماورم میں پیش آیا۔


سائبردھوکہ بازوں نے اس موظف پروفیسر کو فون کرتے ہوئے اس سے کہا کہ اس کو ڈیجیٹل گرفتارکیاگیا ہے۔
یہ رقم 13دنوں میں اس موظف پروفیسر کے بینک کھاتے سے اڑالی گئی۔


اس موظف پروفیسر جس کی شناخت ایم وی جی ای شرما کے طورپر کی گئی ہے،کو فون کرتے ہوئے سائبردھوکہ بازوں نے خود کو سی بی آئی کے عہدیدار قراردیا۔


انہوں نے کہاکہ شرما جس موبائل فون کااستعمال کرتے ہیں اس کی سم کارڈ میں فرق ہے اوراس کے ذریعہ سائبردھوکہ بازی کی گئی ہے۔انہوں نے بعد ازاں ڈیجیٹل گرفتار کی دھمکی دی ۔

اس سے تفصیلات طلب کی گئی جس پرمتاثرہ پروفیسر نے اپنے آدھارکارڈ،بینک کی تفصیلات فراہم کی جس کے بعد 13دنوں کے دوران ان کے بینک کھاتے سے 78لاکھ روپئے غائب کردیئے گئے۔


بعد ازاں اس واقعہ کا علم ہواجس کے بعد بھیماورم پولیس سے اس سلسلہ میں شکایت کی گئی۔بھیماورم پولیس نے ایک معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی۔