عنقریب ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈس کی اجرائی: اے ریونت ریڈی
چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت تقریباً 60 لاکھ افراد کا ہیلتھ ڈاٹا تیار کر رہی ہے اور انہیں جلد ہی ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈس جاری کیے جائیں گے۔
حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت تقریباً 60 لاکھ افراد کا ہیلتھ ڈاٹا تیار کر رہی ہے اور انہیں جلد ہی ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈس جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پہلے ہی 1.30 کروڑ خاندانوں کو لائف انشورنس فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جبکہ اس سال غریب طبقات کو مفت طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے آروگیہ شری اسکیم اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ (سی ایم آر ایف) کے تحت تقریباً 1800 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
چیف منسٹر نے کہا کہ یہ ہیلتھ ڈاٹا گزشتہ 20 سالہ آروگیہ شری اسکیم کے ریکارڈ کی بنیاد پر تیار کیا جا رہا ہے اور ریاست میں کینسر کی روک تھام پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس کے لیے معروف ماہرِ کینسر ڈاکٹر نوری دتاتریہ کو ریاستی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے طبی اخراجات میں مسلسل اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کے لیے کم خرچ میں علاج حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اسی لیے نجی ڈاکٹروں کو ہر سال کم از کم ایک ماہ سرکاری اسپتالوں میں خدمات انجام دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عثمانیہ اسپتال اور تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ٹمز) اسپتالوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کے لیے تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے زور دے کر کہا کہ طبی پیشہ صرف مشینی انداز میں نہیں بلکہ خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی تقریباً 40 فیصد فارماسیوٹیکل مصنوعات حیدرآباد میں تیار ہوتی ہیں اور کورونا کی تین ویکسینیں بھی جینوم ویلی، حیدرآباد میں تیار کی گئی تھیں۔
ریونت ریڈی نے مزید اعلان کیا کہ آئندہ تعلیمی سال سے ریاست میں نرسری سے بارہویں جماعت تک نیا تعلیمی نظام متعارف کرایا جائے گا اور تلنگانہ پبلک اسکولس قائم کیے جائیں گے جہاں طلبہ کو معیاری ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور سفری سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو مکمل یا 50 فیصد رعایتی ٹرانسپورٹ سہولت دینے کے بارے میں جلد فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کی مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے اسکلز یونیورسٹی بھی قائم کی جا رہی ہے اور اگر سب کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے تو فلاحی اسکیموں کی ضرورت خود بخود کم ہو جائے گی۔